کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مال غنیمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1553
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَنِي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ ، أَوْ قَالَ : أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ ، وَأَحَلَّ لِيَ الْغَنَائِمَ " ، وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَأَبِي ذَرٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَبِي مُوسَى ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَسَيَّارٌ هَذَا يُقَالُ لَهُ : سَيَّارٌ مَوْلَى بَنِي مُعَاوِيَةَ ، وَرَوَى عَنْهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے انبیاء و رسل پر فضیلت بخشی ہے “ ( یا آپ نے یہ فرمایا : ” میری امت کو دوسری امتوں پر فضیلت بخشی ہے ، اور ہمارے لیے مال غنیمت کو حلال کیا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوامامہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں علی ، ابوذر ، عبداللہ بن عمرو ، ابوموسیٰ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1553
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (4001 / التحقيق الثاني) ، الإرواء (152 - 285)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4877) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1553M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ : أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً ، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ " ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے انبیاء و رسل پر چھ چیزوں ( خصلتوں ) کے ذریعہ فضیلت بخشی گئی ہے ، مجھے «جوامع الكلم» ( جامع کلمات ) عطا کئے گئے ہیں ۱؎ ، رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ۲؎ ، میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے ، میرے لیے تمام روئے زمین مسجد اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے ۳؎ ، میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میرے ذریعہ انبیاء و رسل کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی قرآن و حدیث جن کے الفاظ مختصر لیکن معانی بہت ہیں۔
۲؎: یعنی عام حالات میں میرا رعب میرے دشمنوں پر ایک مہینہ کی مسافت کی دوری ہی سے طاری رہتا ہے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں شامل ہے۔
۳؎: یعنی عبادت کے لیے کوئی جگہ مخصوص نہیں ہے، بلکہ وقت ہونے کے ساتھ کسی بھی پاکیزہ جگہ عبادت کی جا سکتی ہے، اسی طرح زمین (مٹی) سے ہر مسلمان طہارت کر سکتا ہے، یعنی وہ میرے لیے پاک کرنے والی بنائی گئی ہے۔
۴؎: یعنی میری رسالت دنیا کی ساری مخلوق کے لیے عام ہے اور میں نبوت کے سلسلہ کی آخری کڑی ہوں، میرے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آنے والا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1553M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (4001 / التحقيق الثاني) ، الإرواء (152 - 285)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المساجد 1 (523) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة 90 (567) ، (قولہ ’’ جُعِلت لي الأرض مسجدا وطہورا ‘‘ فحسب) ( تحفة الأشراف : 13977) ، و مسند احمد (2/412) (صحیح)»