کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: فرع اور عتیرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1512
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ , وَالْفَرَعُ : أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ " , قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ نُبَيْشَةَ , وَمِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ , وَأَبِي الْعُشَرَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَتِيرَةُ : ذَبِيحَةٌ كَانُوا يَذْبَحُونَهَا فِي رَجَبٍ , يُعَظِّمُونَ شَهْرَ رَجَبٍ لِأَنَّهُ أَوَّلُ شَهْرٍ مِنْ أَشْهُرِ الْحُرُمِ , وَأَشْهُرِ الْحُرُمِ : رَجَبٌ , وَذُو الْقَعْدَةِ , وَذُو الْحِجَّةِ , وَالْمُحَرَّمُ , وَأَشْهُرُ الْحَجِّ : شَوَّالٌ , وَذُو الْقَعْدَةِ , وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ , كَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اسلام میں ) نہ «فرع» ہے نہ «عتيرة» ، «فرع» جانور کا وہ پہلا بچہ ہے جو کافروں کے یہاں پیدا ہوتا تو وہ اسے ( بتوں کے نام پر ) ذبح کر دیتے تھے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں نبیشہ ، مخنف بن سلیم اور ابوالعشراء سے بھی احادیث آئی ہیں ، ابوالعشراء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ،
۳- «عتيرة» وہ ذبیحہ ہے جسے اہل مکہ رجب کے مہینہ میں اس ماہ کی تعظیم کے لیے ذبح کرتے تھے اس لیے کہ حرمت کے مہینوں میں رجب پہلا مہینہ ہے ، اور حرمت کے مہینے رجب ذی قعدہ ، ذی الحجہ ، اور محرم ہیں ، اور حج کے مہینے شوال ، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے ( ابتدائی ) دس دن ہیں ۔ حج کے مہینوں کے سلسلہ میں بعض صحابہ اور دوسرے لوگوں سے اسی طرح مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1512
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3168)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/العقیقة 3 (5473) ، و 4 (5474) ، صحیح مسلم/الأضاحي 6 (1976) ، سنن ابی داود/ الضحایا 20 (2831) ، سنن النسائی/الفرع والعتیرة1 (4227) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح 2 (2868) ، ( تحفة الأشراف : 13269) ، و مسند احمد (2/229، 239، 279، 490) ، سنن الدارمی/الأضاحي 8 (2007) (صحیح)»