کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: ٹوٹی سینگ اور پھٹے کان والے جانوروں کی قربانی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1503
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ : الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ , قُلْتُ : فَإِنْ وَلَدَتْ , قَالَ : اذْبَحْ وَلَدَهَا مَعَهَا , قُلْتُ : فَالْعَرْجَاءُ , قَالَ : إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسِكَ , قُلْتُ : فَمَكْسُورَةُ الْقَرْنِ , قَالَ : لَا بَأْسَ , أُمِرْنَا أَوْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَيْنِ , وَالْأُذُنَيْنِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حجیہ بن عدی سے روایت ہے کہ` علی رضی الله عنہ نے کہا : گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے کی جائے گی ، حجیہ کہتے ہیں : میں نے پوچھا : اگر وہ بچہ جنے ؟ انہوں نے کہا : اسی کے ساتھ اس کو بھی ذبح کر دو ۱؎ ، میں نے کہا اگر وہ لنگڑی ہو ؟ انہوں نے کہا : جب قربان گاہ تک پہنچ جائے تو اسے ذبح کر دو ، میں نے کہا : اگر اس کے سینگ ٹوٹے ہوں ؟ انہوں نے کہا : کوئی حرج نہیں ۲؎ ، ہمیں حکم دیا گیا ہے ، یا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ہم ان کی آنکھوں اور کانوں کو خوب دیکھ بھال لیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس حدیث کو سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی قربانی کے لیے گائے خریدی پھر اس نے بچہ جنا تو بچہ کو گائے کے ساتھ ذبح کر دے۔
۲؎: ظاہری مفہوم سے معلوم ہوا کہ ایسے جانور کی قربانی علی رضی الله عنہ کے نزدیک جائز ہے، لیکن آگے آنے والی علی رضی الله عنہ کی مرفوع روایت ان کے اس قول کے مخالف ہے (لیکن وہ ضعیف ہے)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1503
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (3143)
تخریج حدیث «سنن النسائی/الضحایا 11 (4381) ، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 8 (3143) ، ( تحفة الأشراف : 10062) ، و مسند احمد (1/95، 105، 125، 132، 152) ، وسنن الدارمی/الأضاحي 3 (1994) (حسن)»
حدیث نمبر: 1504
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ النَّهْدِيِّ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ , وَالْأُذُنِ " , قَالَ قَتَادَةُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , فَقَالَ : الْعَضْبُ : مَا بَلَغَ النِّصْفَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جن کے سینگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں ۔ قتادہ کہتے ہیں : میں نے سعید بن مسیب سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا : «عضب» ( سینگ ٹوٹنے ) سے مراد یہ ہے کہ سینگ آدھی یا اس سے زیادہ ٹوٹی ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1504
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (3145)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الضحایا 6 (2805) ، سنن النسائی/الضحایا 12 (4382) ، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 8 (3145) ، ( تحفة الأشراف : 10031) ، و مسند احمد (1/83، 101، 109، 127، 129، 150) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ جری ‘‘ لین الحدیث ہیں)»