کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: قربانی کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1493
حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْحَذَّاءُ الْمَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ أَبُو مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ , أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ , إِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا , وَأَشْعَارِهَا , وَأَظْلَافِهَا , وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الْأَرْضِ , فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا " , قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَأَبُو الْمُثَنَّى اسْمُهُ : سُلَيْمَانُ بْنُ يَزِيدَ , وَرَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى : وَيُرْوَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " فِي الْأُضْحِيَّةِ لِصَاحِبِهَا بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ " , وَيُرْوَى بِقُرُونِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قربانی کے دن اللہ کے نزدیک آدمی کا سب سے محبوب عمل خون بہانا ہے ، قیامت کے دن قربانی کے جانور اپنی سینگوں ، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئیں گے قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتا ہے ، اس لیے خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہشام بن عروہ کی اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- اس باب میں عمران بن حصین اور زید بن ارقم رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- راوی ابومثنی کا نام سلیمان بن یزید ہے ، ان سے ابن ابی فدیک نے روایت کی ہے ،
۴- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے نیکی ملے گی “ ،
۵- یہ بھی مروی ہے کہ جانور کی سینگ کے عوض نیکی ملے گی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1493
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (3126) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (671) ، المشكاة (1470) ، ضعيف الجامع الصغير (5112) // , شیخ زبیر علی زئی: (1493) إسناده ضعيف / جه 3126, أبو لمثني سليمان بن يزيد الخزاعي : ضعيف (تق: 8340 ) وحديث ”لصاحبھا بكل شعرة حسنة“ فى ضعيف سنن ابن ماجه (3127)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الأضاحي 3 (3126) ، ( تحفة الأشراف : 17343) (ضعیف جداً) (سند میں ’’ ابو المثنی سلیمان بن یزید ‘‘ سخت ضعیف ہے)»