حدیث نمبر: 1491
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , قَال : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا , وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ , مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا , أَوْ ظُفُرًا , وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ : أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ , وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ " , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَبَايَةَ , عَنْ أَبِيهِ , وَهَذَا أَصَحُّ , وَعَبَايَةُ , قَدْ سَمِعَ مِنْ رَافِعٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , لَا يَرَوْنَ أَنْ يُذَكَّى بِسِنٍّ , وَلَا بِعَظْمٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کل ہم دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس ( جانور ذبح کرنے کے لیے ) چھری نہیں ہے ( تو کیا حکم ہے ؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو خون بہا دے ۱؎ اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھا گیا ہو تو اسے کھاؤ ، بجز دانت اور ناخن سے ذبح کیے گئے جانور کے ، اور میں تم سے دانت اور ناخن کی ۲؎ تفسیر بیان کرتا ہوں : دانت ، ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ۳؎ ۔ محمد بن بشار کی سند سے یہ بیان کیا ، سفیان ثوری کہتے ہیں عبایہ بن رفاعہ سے ، اور عبایہ نے رافع بن خدیج سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ، اس میں «عباية عن أبيه» کا ذکر نہیں ہے اور یہی بات زیادہ صحیح ہے ، عبایہ نے رافع سے سنا ہے ، اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ دانت اور ہڈی سے ذبح کرنا درست نہیں سمجھتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس میں تلوار، چھری، تیز پتھر، لکڑی، شیشہ، سرکنڈا، بانس اور تانبے یا لوہے کی بنی ہوئی چیزیں شامل ہیں۔
۲؎: اس جملہ کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ اللہ کے رسول کا قول ہے یا راوی حدیث رافع بن خدیج رضی الله عنہ کا ہے۔
۳؎: ناخن کے ساتھ ذبح کرنے میں کفار کے ساتھ مشابہت ہے، نیز یہ ذبح کی صفت میں نہیں آتا، دانت و ناخن خواہ انسان کا ہو یا کسی اور جانور کا الگ اور جدا ہو یا جسم کے ساتھ لگا ہو، ان سے ذبح کرنا جائز نہیں۔
۲؎: اس جملہ کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ اللہ کے رسول کا قول ہے یا راوی حدیث رافع بن خدیج رضی الله عنہ کا ہے۔
۳؎: ناخن کے ساتھ ذبح کرنے میں کفار کے ساتھ مشابہت ہے، نیز یہ ذبح کی صفت میں نہیں آتا، دانت و ناخن خواہ انسان کا ہو یا کسی اور جانور کا الگ اور جدا ہو یا جسم کے ساتھ لگا ہو، ان سے ذبح کرنا جائز نہیں۔