کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: حلق اور لبہ (سینے کے اوپری حصہ) میں ذبح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1481
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ , قَالَ : " لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ " , قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ : هَذَا فِي الضَّرُورَةِ , قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , وَلَا نَعْرِفُ لِأَبِي الْعُشَرَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ , وَاخْتَلَفُوا فِي اسْمِ أَبِي الْعُشَرَاءِ , فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اسْمُهُ أُسَامَةُ بْنُ قِهْطِمٍ , وَيُقَالُ : اسْمُهُ يَسَارُ بْنُ بَرْزٍ , وَيُقَالُ : ابْنُ بَلْزٍ وَيُقَالُ : اسْمُهُ عُطَارِدٌ نُسِبَ إِلَى جَدِّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالعشراء کے والد اسامہ بن مالک سے روایت ہے کہ` میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا ذبح ( شرعی ) صرف حلق اور لبہ ہی میں ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” اگر اس کی ران میں بھی تیر مار دو تو کافی ہو گا “ ، یزید بن ہارون کہتے ہیں : یہ حکم ضرورت کے ساتھ خاص ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- اس حدیث کے علاوہ ابو العشراء کی کوئی اور حدیث ان کے باپ سے ہم نہیں جانتے ہیں ، ابوالعشراء کے نام کے سلسلے میں اختلاف ہے : بعض لوگ کہتے ہیں : ان کا نام اسامہ بن قھطم ہے ، اور کہا جاتا ہے ان کا نام یسار بن برز ہے اور ابن بلز بھی کہا جاتا ہے ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا نام عطارد ہے دادا کی طرف ان کی نسبت کی گئی ہے ،
۳- اس باب میں رافع بن خدیج سے بھی روایت آئی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيد والذبائح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1481
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (3184) , شیخ زبیر علی زئی: (1481) إسناده ضعيف / د 2825، ن 4413، جه 3184
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الضحایا 16 (2825) ، سنن النسائی/الضحایا 25 (4413) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح 9 (3184) ، ( تحفة الأشراف : 15694) و مسند احمد (4/334) ، سنن الدارمی/الأضاحي 12 (2015) (ضعیف) (سند میں ’’ ابوالعشراء ‘‘ مجہول ہیں، ان کے والد بھی مجہول ہیں مگر صحابی ہیں)»