کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: بندھا ہوا جانور جسے تیر مار کر ہلاک کیا گیا ہو کا کھانا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 1473
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْمُجَثَّمَةِ : وَهِيَ الَّتِي تُصْبَرُ بِالنَّبْلِ " , قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ , وَأَنَسٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَجَابِرٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مجثمة» کے کھانے سے منع فرمایا ۔ «مجثمة» اس جانور یا پرندہ کو کہتے ہیں ، جسے باندھ کر تیر سے مارا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابو الدرداء کی حدیث غریب ہے ،
۲- اس باب میں عرباض بن ساریہ ، انس ، ابن عمر ، ابن عباس ، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: «مصبورہ» : وہ جانور ہے جسے باندھ کر اس پر تیر اندازی کی جاتی ہو یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہو، ایسے جانور کے کھانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ غیر مذبوح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيد والذبائح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1473
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (2391)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 2350) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1474
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , غَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ وَهْبٍ أَبِي خَالِدٍ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَاريةَ، عَنْ أَبِيهَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ , وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ , وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ , وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ , وَعَنِ الْخَلِيسَةِ , وَأَنْ تُوطَأَ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ " , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى : سُئِلَ أَبُو عَاصِمٍ عَنِ الْمُجَثَّمَةِ , قَالَ : أَنْ يُنْصَبَ الطَّيْرُ , أَوِ الشَّيْءُ فَيُرْمَى , وَسُئِلَ عَنِ الْخَلِيسَةِ , فَقَالَ : الذِّئْبُ , أَو السَّبُعُ يُدْرِكُهُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُهُ مِنْهُ فَيَمُوتُ فِي يَدِهِ قَبْلَ أَنْ يُذَكِّيَهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے دن ہر کچلی والے درندے ۱؎ پنجے والے پرندے ۲؎ ، پالتو گدھے کے گوشت ، «مجثمة» اور «خليسة» سے منع فرمایا ، آپ نے حاملہ ( لونڈی جو نئی نئی مسلمانوں کی قید میں آئے ) کے ساتھ جب تک وہ بچہ نہ جنے جماع کرنے سے بھی منع فرمایا ۔ راوی محمد بن یحییٰ قطعی کہتے ہیں : ابوعاصم سے «مجثمة» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : پرندے یا کسی دوسرے جانور کو باندھ کر اس پر تیر اندازی کی جائے ( یہاں تک کہ وہ مر جائے ) اور ان سے «خليسة» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : «خليسة» وہ جانور ہے ، جس کو بھیڑیا یا درندہ پکڑے اور اس سے کوئی آدمی اسے چھین لے پھر وہ جانور ذبح کئے جانے سے پہلے اس کے ہاتھ میں مر جائے ۔
وضاحت:
۱؎: مثلاً بھیڑیا، شیر اور چیتا وغیرہ۔ ۲؎: گدھ اور باز وغیرہ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيد والذبائح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1474
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح - صحيح مفرقا إلا الخليسة -، الصحيحة (4 / 238 - 239 و 1673 و 2358 و 2391) ، الإرواء (2488) ، صحيح أبي داود (1883 و 2507) , شیخ زبیر علی زئی: (1474) إسناده ضعيف, أم حبيبة لم أجد من و ثقھا وھي: مجھولة ،كما فى التحرير (8714) وللحديث شواھد كثيرة دون ”الخليسة“
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ویأتي عندہ برقم 1564 ( تحفة الأشراف : 9892) ، وانظر مسند احمد (4/127) (صحیح) (سند میں ’’ ام حبیبہ ‘‘ مجہول ہیں، ’’ خلیسہ ‘‘ کے سوا تمام ٹکڑے شواہد کی بنا پر صحیح ہیں)»
حدیث نمبر: 1475
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ شَيْءٌ فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جاندار کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيد والذبائح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1475
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3187)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصید 2 (1957) ، سنن النسائی/الضحایا 41 (4448) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح 10 (3187) ، ( تحفة الأشراف : 6112) ، و مسند احمد (1/216، 273، 280، 285، 340، 345) (صحیح) (مؤلف اور ابن ماجہ کی سند میں سماک وعکرمہ کی وجہ سے کلام ہے، دیگر کی سند یں صحیح ہیں)»