حدیث نمبر: 1466
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ الْحَجَّاجِ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ , عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " نُهِينَا عَنْ صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ , لَا يُرَخِّصُونَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ , وَالْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ هُوَ : الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَكِّيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ہمیں مجوسیوں کے کتے کے شکار سے منع کیا گیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، یہ لوگ مجوسی کے کتے کے شکار کی اجازت نہیں دیتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، یہ لوگ مجوسی کے کتے کے شکار کی اجازت نہیں دیتے ۔