حدیث نمبر: 1447
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ , قَالَ : سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ , عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ , أَمِنَ السُّنَّةِ هُوَ ؟ قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ , فَقُطِعَتْ يَدُهُ , ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيِّ , عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ : هُوَ أَخُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ شَامِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ` میں نے فضالہ بن عبید سے پوچھا : کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا ، پھر آپ نے حکم دیا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف عمر بن علی مقدمی ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، انہوں نے اسے حجاج بن ارطاۃ سے روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف عمر بن علی مقدمی ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، انہوں نے اسے حجاج بن ارطاۃ سے روایت کیا ہے ۔