مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: چور کا ہاتھ (کاٹنے کے بعد) گردن میں لٹکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1447
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ , قَالَ : سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ , عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ , أَمِنَ السُّنَّةِ هُوَ ؟ قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ , فَقُطِعَتْ يَدُهُ , ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيِّ , عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ : هُوَ أَخُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ شَامِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ` میں نے فضالہ بن عبید سے پوچھا : کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا ، پھر آپ نے حکم دیا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف عمر بن علی مقدمی ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، انہوں نے اسے حجاج بن ارطاۃ سے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1447
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (2587) ، المشكاة (3605 / التحقيق الثاني) , شیخ زبیر علی زئی: (1447) إسناده ضعيف / د 4411، ن 4985، جه 2587
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الحدود 21 (4411) ، سنن النسائی/قطع السارق 19 (4985) ، سنن ابن ماجہ/الحدود 23 (2587) ، ( تحفة الأشراف : 11029) ، و مسند احمد (6/19) (ضعیف) (سند میں ’’ حجاج بن ارطاة ‘‘ ضعیف، اور ’’ عبدالرحمن بن محیریز ‘‘ مجہول ہیں) دیکھئے: الإرواء: 2432)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔