حدیث نمبر: 1413
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ , وحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ " , وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " دِيَةُ عَقْلِ الْكَافِرِ , نِصْفُ دِيَةِ عَقْلِ الْمُؤْمِنِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي دِيَةِ الْيَهُودِيِّ , وَالنَّصْرَانِيِّ , فَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي دِيَةِ الْيَهُودِيِّ , وَالنَّصْرَانِيِّ إِلَى مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : دِيَةُ الْيَهُودِيِّ , وَالنَّصْرَانِيِّ , نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ , وَبِهَذَا يَقُولُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کافر کے بدلے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا “ ، اور اسی سند سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کافر کی دیت مومن کی دیت کا نصف ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے ،
۲- یہودی اور نصرانی کی دیت میں اہل علم کا اختلاف ہے ، یہودی اور نصرانی کی دیت کی بابت بعض اہل علم کا مسلک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث کے موافق ہے ،
۳- عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں : یہودی اور نصرانی کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے ، احمد بن حنبل اسی کے قائل ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے ،
۲- یہودی اور نصرانی کی دیت میں اہل علم کا اختلاف ہے ، یہودی اور نصرانی کی دیت کی بابت بعض اہل علم کا مسلک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث کے موافق ہے ،
۳- عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں : یہودی اور نصرانی کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے ، احمد بن حنبل اسی کے قائل ہیں ۔
حدیث نمبر: 1413M
وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّهُ قَالَ : دِيَةُ الْيَهُودِيِّ , وَالنَّصْرَانِيِّ : أَرْبَعَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ , وَدِيَةُ الْمَجُوسِيِّ : ثَمَانُ مِائَةِ دِرْهَمٍ , وَبِهَذَا يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , وَالشَّافِعِيُّ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : دِيَةُ الْيَهُودِيِّ , وَالنَّصْرَانِيِّ , مِثْلُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ , وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` یہودی اور نصرانی کی دیت چار ہزار درہم اور مجوسی کی آٹھ سو درہم ہے ۔
( امام ترمذی کہتے ہیں : )
۱- مالک بن انس ، شافعی اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ،
۲- بعض اہل علم کہتے ہیں : یہودی اور نصرانی کی دیت مسلمانوں کی دیت کے برابر ہے ، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ۔
( امام ترمذی کہتے ہیں : )
۱- مالک بن انس ، شافعی اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ،
۲- بعض اہل علم کہتے ہیں : یہودی اور نصرانی کی دیت مسلمانوں کی دیت کے برابر ہے ، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ۔