حدیث نمبر: 1388
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , " عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی ۔
حدیث نمبر: 1389
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْكُرُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ : أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الدِّيَةَ عَشْرَةَ آلَافٍ , وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ , وقَالَ الشَّافِعِيُّ : لَا أَعْرِفُ الدِّيَةَ إِلَّا مِنَ الْإِبِلِ , وَهِيَ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ أَوْ قِيمَتُهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن المخزومی نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ` ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار کے واسطے سے بیان کیا ، عمرو بن دینار نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے اس روایت میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ، ابن عیینہ کی روایت میں محمد بن مسلم طائفی کی روایت کی بنسبت کچھ زیادہ باتیں ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ہمارے علم میں محمد بن مسلم کے علاوہ کسی نے اس حدیث میں ” ابن عباس “ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے ،
۲- بعض اہل علم کے نزدیک اسی حدیث پر عمل ہے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ،
۳- اور بعض اہل اعلم کے نزدیک دیت دس ہزار ( درہم ) ہے ، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ،
۴- امام شافعی کہتے ہیں : ہم اصل دیت صرف اونٹ کو سمجھتے ہیں اور وہ سو اونٹ یا اس کی قیمت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ہمارے علم میں محمد بن مسلم کے علاوہ کسی نے اس حدیث میں ” ابن عباس “ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے ،
۲- بعض اہل علم کے نزدیک اسی حدیث پر عمل ہے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ،
۳- اور بعض اہل اعلم کے نزدیک دیت دس ہزار ( درہم ) ہے ، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ،
۴- امام شافعی کہتے ہیں : ہم اصل دیت صرف اونٹ کو سمجھتے ہیں اور وہ سو اونٹ یا اس کی قیمت ہے ۔