کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مزارعت ہی سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 1384
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا , إِذَا كَانَتْ لِأَحَدِنَا أَرْضٌ , أَنْ يُعْطِيَهَا بِبَعْضِ خَرَاجِهَا , أَوْ بِدَرَاهِمَ , وَقَالَ : " إِذَا كَانَتْ لِأَحَدِكُمْ أَرْضٌ , فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ , أَوْ لِيَزْرَعْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے مفید تھا ، وہ یہ کہ جب ہم میں سے کسی کے پاس زمین ہوتی تو وہ اس کو ( زراعت کے لیے ) کچھ پیداوار یا روپیوں کے عوض دے دیتا ۔ آپ نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے پاس زمین ہو تو وہ اپنے بھائی کو ( مفت ) دیدے ۔ یا خود زراعت کرے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: دیکھئیے پچھلی حدیث اور اس کا حاشیہ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1384
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح - لكن ذكر الدراهم شاذ -، الإرواء (5 / 298 - 300) ، غاية المرام (355)
تخریج حدیث «سنن النسائی/المزارعة 2 (3899) ، ( تحفة الأشراف : 3578) ، (وانظر أیضا: أحادیث النسائي من الأرقام: 3893- إلی -3903) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1385
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بنُ غَيْلَانَ , أَخْبَرنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانيُّ , أَخْبَرنَا شَرِيك , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , " أن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمْ الْمُزَارَعَةَ , وَلَكِنْ أَمَرَ أَنْ يَرفْقَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وحَدِيثٌ رَافِعٍ فِيِه اضْطِرابٌ , يُروى هَذَا الْحَدِيثٌ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَديِجٍ , عَنْ عُمُومَتِه , ويُروى عَنْهُ , عَنْ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعِ , وَهُوَ أَحَدُ عُمُومَتِه , وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثٌ عَنْه عَلَى رِوَايَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ , وَفيِ الْبَاب : عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , وَجَابِرٍ رَضِى اللهُ عَنْهُمَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت کو حرام نہیں کیا ، لیکن آپ نے ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم دیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- رافع کی حدیث میں ( جو اوپر مذکور ہوئی ) اضطراب ہے ۔ کبھی یہ حدیث بواسطہ رافع بن خدیج ان کے چچاؤں سے روایت کی جاتی ہے اور کبھی بواسطہ رافع بن خدیج ظہیر بن رافع سے روایت کی جاتی ہے ، یہ بھی ان کے ایک چچا ہیں ،
۳- اور ان سے یہ حدیث مختلف طریقے پر روایت کی گئی ہے ،
۴- اس باب میں زید بن ثابت اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1385
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الحرث 10 (2330) ، و18 (2342) ، والہبة 35 (2634) ، صحیح مسلم/البیوع 21 (1547) ، سنن ابی داود/ البیوع 3 (3389) ، سنن النسائی/المزارعة 45 (3940) ، سنن ابن ماجہ/الرہون 11 (2453) ، ( تحفة الأشراف : 5735) (صحیح)»