حدیث نمبر: 1340
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ : هِيَ أَرْضِي وَفِي يَدِي لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ : " أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَلَكَ يَمِينُهُ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ ، قَالَ : " لَيْسَ لَكَ مِنْهُ ، إِلَّا ذَلِكَ " . قَالَ : فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ لِيَحْلِفَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا أَدْبَرَ لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِكَ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` دو آدمی ایک حضر موت سے اور ایک کندہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ حضرمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس ( کندی ) نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے ، اس پر کندی نے کہا : یہ میری زمین ہے اور میرے قبضہ میں ہے ، اس پر اس ( حضرمی ) کا کوئی حق نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا : ” تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ؟ “ ، اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” پھر تو تم اس سے قسم ہی لے سکتے ہو “ ، اس آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ فاجر آدمی ہے اسے اس کی پرواہ نہیں کہ وہ کس بات پر قسم کھا رہا ہے ۔ اور نہ وہ کسی چیز سے احتیاط برتتا ہے ، آپ نے فرمایا : ” اس سے تم قسم ہی لے سکتے ہو “ ۔ آدمی قسم کھانے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا فرمایا : اگر اس نے ظلماً تمہارا مال کھانے کے لیے قسم کھائی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے رخ پھیرے ہو گا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- وائل بن حجر کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمر ، ابن عباس ، عبداللہ بن عمرو ، اور اشعث بن قیس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- وائل بن حجر کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمر ، ابن عباس ، عبداللہ بن عمرو ، اور اشعث بن قیس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 1341
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي , وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " . هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ , ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا : ” گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس حدیث کی سند میں کلام ہے ۔ محمد بن عبیداللہ عرزمی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں ۔ ابن مبارک وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس حدیث کی سند میں کلام ہے ۔ محمد بن عبیداللہ عرزمی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں ۔ ابن مبارک وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1342
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ : أَنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ قسم مدعی علیہ پر ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ پر ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ پر ہے ۔