حدیث نمبر: 1329
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ ، وَأَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ، وَأَبْعَدَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ جَائِرٌ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ ، حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور بیٹھنے میں اس کے سب سے قریب عادل حکمراں ہو گا ، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور اس سے سب سے دور بیٹھنے والا ظالم حکمراں ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
حدیث نمبر: 1330
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ ، فَإِذَا جَارَ تَخَلَّى عَنْهُ ، وَلَزِمَهُ الشَّيْطَانُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ۱؎ جب تک وہ ظلم نہیں کرتا ، اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے ۔ اور اس سے شیطان چمٹ جاتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اس کو صرف عمران بن قطان کی روایت سے جانتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اس کو صرف عمران بن قطان کی روایت سے جانتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال ہوتی ہے۔