حدیث نمبر: 1327
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " كَيْفَ تَقْضِي ؟ " فَقَالَ : أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ . قَالَ : " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ " قَالَ : فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " قَالَ : أَجْتَهِدُ رَأْيِي ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی الله عنہ کے شاگردوں میں سے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو ( قاضی بنا کر ) یمن بھیجا ، تو آپ نے پوچھا : ” تم کیسے فیصلہ کرو گے ؟ “ ، انہوں نے کہا : میں اللہ کی کتاب سے فیصلے کروں گا ، آپ نے فرمایا : ” اگر ( اس کا حکم ) اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں موجود نہ ہو تو ؟ “ معاذ نے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلے کروں گا ، آپ نے فرمایا : ” اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی ( اس کا حکم ) موجود نہ ہو تو ؟ “ ، معاذ نے کہا : ( تب ) میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ۔ آپ نے فرمایا : ” اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو ( صواب کی ) توفیق بخشی “ ۔
حدیث نمبر: 1328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو ابن أَخٍ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ ، عَنْ مُعَاذٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ عِنْدِي بِمُتَّصِلٍ ، وَأَبُو عَوْنٍ الثَّقَفِيُّ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` معاذ سے اسی طرح کی حدیث مرفوعاً مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ،
۲- اور اس کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے ،
۳- ابو عون ثقفی کا نام محمد بن عبیداللہ ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ،
۲- اور اس کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے ،
۳- ابو عون ثقفی کا نام محمد بن عبیداللہ ہے ۔