مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: چیزوں کی قیمت مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1314
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَعِّرْ لَنَا ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ ، يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي دَمٍ ، وَلَا مَالٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( غلہ وغیرہ کا ) نرخ بڑھ گیا ، تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ہمارے لیے نرخ مقرر کر دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے ، وہی روزی تنگ کرنے والا ، کشادہ کرنے والا اور کھولنے والا اور بہت روزی دینے والا ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جان و مال کے سلسلے میں کسی ظلم ( کے بدلے ) کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1314
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2200)
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ البیوع 51 (3451) ، سنن ابن ماجہ/التجارات 27 (2200) ، ( تحفة الأشراف : 318 و 614 و 1158) ، و مسند احمد (3/286) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔