مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: بیع عرایا سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 1303
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ ، " أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، إِلَّا لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا ، فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ ، وَعَنْ كُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی سوکھی کھجوروں کے عوض درخت پر لگی کھجور بیچنے سے منع فرمایا ، البتہ آپ نے عرایا والوں کو اجازت دی ، اور خشک انگور کے عوض تر انگور بیچنے سے اور اندازہ لگا کر کوئی بھی پھل بیچنے سے منع فرمایا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1303
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح أحاديث البيوع
حدیث تخریج «صحیح البخاری/البیوع 83 (2191) ، والشرب والمساقاة 17 (2384) ، صحیح مسلم/البیوع 14 (1540) ، سنن ابی داود/ البیوع 20 (2363) ، سنن النسائی/البیوع 35 (4546) ، ( تحفة الأشراف : 3552و4646) و مسند احمد (4/2) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔