کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جو شخص دل میں اپنی بیوی کی طلاق کا خیال لائے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1183
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجَاوَزَ اللَّهُ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ ، أَوْ تَعْمَلْ بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا حَدَّثَ نَفْسَهُ بِالطَّلَاقِ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ حَتَّى يَتَكَلَّمَ بِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے میری امت کے خیالات کو جو دل میں آتے ہیں معاف فرما دیا ہے جب تک کہ وہ انہیں زبان سے ادا نہ کرے ، یا ان پر عمل نہ کرے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب اپنے دل میں طلاق کا خیال کر لے تو کچھ نہیں ہو گا ، جب تک کہ وہ منہ سے نہ کہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور گزرنے والے وسوسے مواخذہ کے قابل گرفت نہیں، مثلاً کسی کے دل میں کسی لڑکی سے شادی یا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا خیال آئے تو محض دل میں خیال آنے سے یہ باتیں واقع نہیں ہوں گی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1183
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2040)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/العتق 6 (2528) ، والطلاق 11 (5265) ، والأیمان والنذور 15 (6664) ، صحیح مسلم/الإیمان 58 (201) ، سنن ابی داود/ الطلاق 15 (2209) ، سنن النسائی/الطلاق 22 (3464) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق 14 (2040) ، مسند احمد (2/392، 425، 474، 481، 491) ( تحفة الأشراف : 12896) (صحیح)»