کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: شوہر پر عورت کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1162
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ خُلُقًا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو ، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الرضاع / حدیث: 1162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، الصحيحة (284)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15059) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1163
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَذَكَّرَ وَوَعَظَ ، فَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ قِصَّةً ، فَقَالَ : " أَلَا وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا ، فَإِنَّمَا هُنَّ عَوَانٌ عِنْدَكُمْ لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا ، غَيْرَ ذَلِكَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ ، وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ ، فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ، أَلَا إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّا ، وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا ، فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ ، فَلَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ ، وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ ، أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ ، أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ : عَوَانٌ عِنْدَكُمْ يَعْنِي : أَسْرَى فِي أَيْدِيكُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلیمان بن عمرو بن احوص کہتے ہیں کہ` مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے ۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ۔ اور ( لوگوں کو ) نصیحت کی اور انہیں سمجھایا ۔ پھر راوی نے اس حدیث میں ایک قصہ کا ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” سنو ! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو ۔ اس لیے کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں ۔ تم اس ( ہمبستری اور اپنی عصمت اور اپنے مال کی امانت وغیرہ ) کے علاوہ اور کچھ اختیار نہیں رکھتے ( اور جب وہ اپنا فرض ادا کرتی ہوں تو پھر ان کے ساتھ بدسلوکی کا جواز کیا ہے ) ہاں اگر وہ کسی کھلی ہوئی بیحیائی کا ارتکاب کریں ( تو پھر تمہیں انہیں سزا دینے کا ہے ) پس اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بستروں سے علاحدہ چھوڑ دو اور انہیں مارو لیکن اذیت ناک مار نہ ہو ، اس کے بعد اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو پھر انہیں سزا دینے کا کوئی اور بہانہ نہ تلاش کرو ، سنو ! جس طرح تمہارا تمہاری بیویوں پر حق ہے اسی طرح تم پر تمہاری بیویوں کا بھی حق ہے ۔ تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر ایسے لوگوں کو نہ روندنے دیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو ، اور تمہارے گھر میں ایسے لوگوں کو آنے کی اجازت نہ دیں جنہیں تم اچھا نہیں سمجھتے ۔ سنو ! اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کے لباس اور پہنے میں اچھا سلوک کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- «عوان عندكم» کا معنی ہے تمہارے ہاتھوں میں قیدی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی طاقت کے مطابق یہ چیزیں احسن طریقے سے مہیا کرو۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الرضاع / حدیث: 1163
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (1851)
تخریج حدیث «*تخريج: سنن ابن ماجہ/النکاح 3 (1851) ، والمؤلف في تفسیر التوبة (3087) ( تحفة الأشراف : 10691) (حسن)»