کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: عورت جو آزاد کر دی جائے اور وہ شوہر والی ہو۔
حدیث نمبر: 1154
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` بریرہ کے شوہر غلام تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا ، تو انہوں نے خود کو اختیار کیا ، ( عروہ کہتے ہیں ) اگر بریرہ کے شوہر آزاد ہوتے تو آپ بریرہ کو اختیار نہ دیتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: نسائی نے سنن میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ آخری فقرہ حدیث میں مدرج ہے، یہ عروہ کا قول ہے، اور ابوداؤد نے بھی اس کی وضاحت کر دی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الرضاع / حدیث: 1154
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، لكن قوله: " ولو كان.... " مدرج من قول عروة، الإرواء (1873) ، صحيح أبي داود (1935)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/العتق 2 (1504/9) ، سنن ابی داود/ الطلاق 19 (2233) ، سنن النسائی/الطلاق 31 (3481) ، ( تحفة الأشراف : 16770) (صحیح) وأخرجہ مطولا ومختصرا کل من: صحیح البخاری/العتق 10 (2536) ، والفرائض 22 (6758) ، صحیح مسلم/العتق (المصدر المذکور) (504/10) ، مسند احمد (6/46، 178) ، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2337) من غیر ھذا الوجہ، وانظر أیضا مایأتي برقم 1256 و 2124 و 2125»
حدیث نمبر: 1155
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَكَذَا ، رَوَى هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا " ، وَرَوَى عِكْرِمَةُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ زَوْجَ بَرِيرَةَ ، وَكَانَ عَبْدًا ، يُقَالُ لَهُ : مُغِيثٌ ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَقَالُوا : إِذَا كَانَتِ الْأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ ، فَأُعْتِقَتْ فَلَا خِيَارَ لَهَا ، وَإِنَّمَا يَكُونُ لَهَا الْخِيَارُ إِذَا أُعْتِقَتْ ، وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهُوَ قَوْلُ : الشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وَرَوَى الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَى أَبُو عَوَانَةَ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ . قَالَ الْأَسْوَدُ : وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` بریرہ کے شوہر آزاد تھے ، پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اسی طرح ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے ، وہ کہتی ہیں کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا ،
۳- عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : میں نے بریرہ کے شوہر کو دیکھا ہے ، وہ غلام تھے اور انہیں مغیث کہا جاتا تھا ،
۴- اسی طرح کی ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی گئی ہے ،
۵- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں کہ جب لونڈی آزاد مرد کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کر دی جائے تو اسے اختیار نہیں ہو گا ۔ اسے اختیار صرف اس صورت میں ہو گا ، جب وہ آزاد کی جائے اور وہ کسی غلام کی زوجیت میں ہو ۔ یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ،
۶- لیکن اعمش نے بطریق : «إبراهيم عن الأسود عن عائشة» روایت کی ہے کہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا ۔ اور ابو عوانہ نے بھی اس حدیث کو بطریق : «الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة» بریرہ کے قصہ کے سلسلہ میں روایت کیا ہے ، اسود کہتے ہیں : بریرہ کے شوہر آزاد تھے ،
۷- تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: راجح روایت یہی ہے کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا «حراً» کا لفظ وہم ہے کما تقدم۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الرضاع / حدیث: 1155
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ - بلفظ: " حرا "، والمحفوظ: " عبدا " -، ابن ماجة (2074) // ضعيف ابن ماجة برقم (450) ، وصحيح سنن ابن ماجة - باختصار السند - برقم (1687) ، الإرواء (6 / 276) // , شیخ زبیر علی زئی: (1155) إسناده ضعيف / د 2235، جه 2074
تخریج حدیث «سنن النسائی/الزکاة 99 (2615) ، والطلاق 30 (3479) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق 29 (2074) ( تحفة الأشراف : 15959) ، مسند احمد (6/42) (المحفوظ: ’’ کان زوجھا عبداً ‘‘ ’’ حراً ‘‘ کا لفظ بقول بخاری ’’ وہم ‘‘ ہے) (صحیح) (حدیث میں بریرہ کے شوہر کو ’’ حرا ‘‘ کہا گیا ہے، یعنی وہ غلام نہیں بلکہ آزاد تھے، اس لیے یہ ایک کلمہ شاذ ہے، اور محفوظ اور ثابت روایت ’’ عبداً ‘‘ کی ہے یعنی بریرہ کے شوہر ’’ مغیث ‘‘ غلام تھے) ۔»
حدیث نمبر: 1156
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ ، لِبَنِي الْمُغِيرَةِ يَوْمَ أُعْتِقَتْ بَرِيرَةُ وَاللَّهِ لَكَأَنِّي بِهِ فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَنَوَاحِيهَا ، وَإِنَّ دُمُوعَهُ لَتَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ يَتَرَضَّاهَا ، لِتَخْتَارَهُ فَلَمْ تَفْعَلْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةُ هُوَ سَعِيدُ بْنُ مِهْرَانَ وَيُكْنَى أَبَا النَّضْرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` بریرہ کے شوہر بنی مغیرہ کے ایک کالے کلوٹے غلام تھے ، جس دن بریرہ آزاد کی گئیں ، اللہ کی قسم ، گویا میں انہیں مدینے کے گلی کوچوں اور کناروں میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں کہ ان کے آنسو ان کی داڑھی پر بہہ رہے ہیں ، وہ انہیں منا رہے ہیں کہ وہ انہیں ساتھ میں رہنے کے لیے چن لیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الرضاع / حدیث: 1156
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2075)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الطلاق 15 (5282) ، 16 (5283) ، سنن ابی داود/ الطلاق 19 (2232) ، ( تحفة الأشراف : 5998) و6189) (صحیح) و أخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الطلاق (2231) ، و مسند احمد (1/215) ، وسنن الدارمی/الطلاق 15 (2338) من غیر ہذا الوجہ۔»