حدیث نمبر: 1153
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ ، فَقَالَ : " غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ : مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ ، يَقُولُ : إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ ذِمَامَ الرَّضَاعَةِ ، وَحَقَّهَا ، يَقُولُ : إِذَا أَعْطَيْتَ الْمُرْضِعَةَ ، عَبْدًا أَوْ أَمَةً ، فَقَدْ قَضَيْتَ ذِمَامَهَا ، وَيُرْوَى عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا ذَهَبَتْ قِيلَ : هِيَ كَانَتْ أَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَحَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى هَؤُلَاءِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ يُكْنَى أَبَا الْمُنْذِرِ ، وَقَدْ أَدْرَكَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنَ عُمَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حجاج اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کے رسول ! مجھ سے حق رضاعت کس چیز سے ادا ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک جان : غلام یا لونڈی کے ذریعہ سے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اسی طرح اسے یحییٰ بن سعید قطان ، حاتم بن اسماعیل اور کئی لوگوں نے بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج بن حجاج عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ۔ اور سفیان بن عیینہ نے بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج بن أبي حجاج عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے ۔ صحیح وہی ہے جسے ان لوگوں نے ہشام بن عروۃ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے ۔ ( یعنی : «حجاج بن حجاج» والی نہ کہ «حجاج بن أبي حجاج» والی )
۳- اور «مايذهب عني مذمة الرضاعة» سے مراد رضاعت کا حق اور اس کا ذمہ ہے ۔ وہ کہتے ہیں : جب تم دودھ پلانے والی کو ایک غلام دے دو ، یا ایک لونڈی تو تم نے اس کا حق ادا کر دیا ،
۴- ابوالطفیل رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔ اتنے میں ایک عورت آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھا دی ، یہاں تک کہ وہ اس پر بیٹھ گئی ، جب وہ چلی گئی تو کہا گیا : یہی وہ عورت تھی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اسی طرح اسے یحییٰ بن سعید قطان ، حاتم بن اسماعیل اور کئی لوگوں نے بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج بن حجاج عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ۔ اور سفیان بن عیینہ نے بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج بن أبي حجاج عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے ۔ صحیح وہی ہے جسے ان لوگوں نے ہشام بن عروۃ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے ۔ ( یعنی : «حجاج بن حجاج» والی نہ کہ «حجاج بن أبي حجاج» والی )
۳- اور «مايذهب عني مذمة الرضاعة» سے مراد رضاعت کا حق اور اس کا ذمہ ہے ۔ وہ کہتے ہیں : جب تم دودھ پلانے والی کو ایک غلام دے دو ، یا ایک لونڈی تو تم نے اس کا حق ادا کر دیا ،
۴- ابوالطفیل رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔ اتنے میں ایک عورت آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھا دی ، یہاں تک کہ وہ اس پر بیٹھ گئی ، جب وہ چلی گئی تو کہا گیا : یہی وہ عورت تھی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا ۔