مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: خطبہ نکاح کا بیان۔
حدیث نمبر: 1105
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ ، قَالَ : " التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ : " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا ، فَمَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَيَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ " . قَالَ عَبْثَرٌ : فَفَسَّرَهُ لَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ : اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ، اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، رَوَاهُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ لِأَنَّ إِسْرَائِيلَ جَمَعَهُمَا ، فَقَالَ : عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ قَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ : إِنَّ النِّكَاحَ جَائِزٌ بِغَيْرِ خُطْبَةٍ ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کے تشہد اور حاجت کے تشہد کو ( الگ الگ ) سکھایا ، وہ کہتے ہیں صلاۃ کا تشہد یہ ہے : «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” تمام زبانی ، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں ۔ اے نبی : سلامتی ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ، اور حاجت کا تشہد یہ ہے : «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا فمن يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں ، ہم اپنے دلوں کی شرارتوں اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، جسے اللہ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے گمراہ کر دے ، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ۔ اور پھر آپ تین آیتیں پڑھتے ۔ عبثر ( راوی حدیث ) کہتے ہیں : تو ہمیں سفیان ثوری نے بتایا کہ وہ تینوں آیتیں یہ تھی : «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے اور حالت اسلام ہی میں مرو “ ( آل عمران : ۱۰۲ ) ، «واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» ” اللہ سے ڈرو ، جس کے نام سے تم سوال کرتے ہو اور جس کے واسطے سے ناطے جوڑتے ہو ، بلاشبہ اللہ تمہارا نگہبان ہے “ ( النساء : ۱ ) ، «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا» ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو ، اور راست اور پکی بات کہو “ ( الأحزاب : ۷۰ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ،
۲- اسے اعمش نے بطریق : «أبي إسحق عن أبي الأحوص عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے ۔ نیز اسے شعبہ نے بطریق : «أبي إسحق عن أبي عبيدة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے ، اور یہ دونوں طریق صحیح ہیں ، اس لیے کہ اسرائیل نے دونوں کو جمع کر دیا ہے ، یعنی «عن أبي إسحق عن أبي الأحوص وأبي عبيدة عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم» ،
۳- اس باب میں عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۴- اہل علم نے کہا ہے کہ نکاح بغیر خطبے کے بھی جائز ہے ۔ اہل علم میں سے سفیان ثوری وغیرہ کا یہی قول ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1105
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1892) , شیخ زبیر علی زئی: (1105) إسناده ضعيف / د 2118، ن 1405 ، 3279، جه 1892
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ النکاح 33 (3118) ، سنن النسائی/الجمعة 24 (1405) ، والنکاح 39 (3279) ، سنن ابن ماجہ/النکاح 19 (1892) ، ( تحفة الأشراف : 9506) مسند احمد (1/392) ، سنن الدارمی/النکاح 20 (2248) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1106
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسے سبھی خطبے جس میں تشہد نہ ہو اس ہاتھ کی طرح ہیں جس میں کوڑھ ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1106
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الأجوبة الناقصة (48) ، تمام المنة - التحقيق الثاني -
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الأدب 22 (4841) ، ( تحفة الأشراف : 1497) ، مسند احمد (2/343) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔