مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: تعزیت کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1076
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا أُمُّ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُنْيَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي بَرْزَةَ، عَنْ جَدِّهَا أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَزَّى ثَكْلَى كُسِيَ بُرْدًا فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی ایسی عورت کی تعزیت ( ماتم پرسی ) کی جس کا لڑکا مر گیا ہو ، تو اسے جنت میں اس کے بدلہ ایک عمدہ کپڑا پہنایا جائے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- اس کی سند قوی نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1076
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (1738) // ضعيف الجامع الصغير (5695) ، الإرواء (764) // , شیخ زبیر علی زئی: (1076) إسناده ضعيف, منية ،لا يعرف حالھا (تق:8687)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11609) (ضعیف) (اس کی راویہ ’’ منیہ ‘‘ مجہول الحال ہیں)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔