مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مصیبت زدہ کی تعزیت کے اجر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1073
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاللَّهِ ! مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَيُقَالُ : أَكْثَرُ مَا ابْتُلِيَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَقَمُوا عَلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مصیبت زدہ کی ( تعزیت ) ماتم پرسی کی ، اسے بھی اس کے برابر اجر ملے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف علی بن عاصم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں ، بعض لوگوں نے محمد بن سوقہ سے اسی جیسی حدیث اسی سند سے موقوفاً روایت کی ہے ۔ اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے ،
۳- کہا جاتا ہے کہ علی بن عاصم پر جو زیادہ طعن ہوا ، اور لوگوں نے ان پر نکیر کی ہے وہ اسی حدیث کے سبب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1073
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (1602) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (350) ، وانظر تعليقي عليه في الصفحة (121) ، المشكاة (1737) ، ضعيف الجامع الصغير (5696) ، الإرواء (765) // , شیخ زبیر علی زئی: (1073) إسناده ضعيف /جه 1602, أنكر واھذا الحديث على على بن عاصم وھو: ضعيف يعتبر به فى المتابعات والشواھد كما فى التحرير (4758) وله متابعات ، لا يصح منھا شي / إبراهيم النخعي عنعن (تقدم:169) إن صح السند إليه
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/الجنائز 56 (1602) ( تحفة الأشراف : 9166) (ضعیف) (سند میں علی بن عاصم بہت غلطی کرتے تھے اور اپنی غلطی پر اصرار بھی کرتے تھے)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔