حدیث نمبر: 1073
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاللَّهِ ! مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَيُقَالُ : أَكْثَرُ مَا ابْتُلِيَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَقَمُوا عَلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مصیبت زدہ کی ( تعزیت ) ماتم پرسی کی ، اسے بھی اس کے برابر اجر ملے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف علی بن عاصم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں ، بعض لوگوں نے محمد بن سوقہ سے اسی جیسی حدیث اسی سند سے موقوفاً روایت کی ہے ۔ اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے ،
۳- کہا جاتا ہے کہ علی بن عاصم پر جو زیادہ طعن ہوا ، اور لوگوں نے ان پر نکیر کی ہے وہ اسی حدیث کے سبب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف علی بن عاصم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں ، بعض لوگوں نے محمد بن سوقہ سے اسی جیسی حدیث اسی سند سے موقوفاً روایت کی ہے ۔ اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے ،
۳- کہا جاتا ہے کہ علی بن عاصم پر جو زیادہ طعن ہوا ، اور لوگوں نے ان پر نکیر کی ہے وہ اسی حدیث کے سبب ہے ۔