مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے۔
حدیث نمبر: 1066
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِقْدَامٍ أَبُو الْأَشْعَثِ الْعِجْلِيُّ ،، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " . وَفِي الْبَاب : عَنْ أَبِي مُوسَى ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہو اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری ، ابوہریرہ ، اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1066
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: **
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الرقاق 41 (6507) صحیح مسلم/الذکر 5 (2683) سنن النسائی/الجنائز 10 (1836) مسند احمد (5/316، 321) سنن الدارمی/الرقاق 43 (2798) ویأتي عند المؤلف في الزہد 6 (2309) ( تحفة الأشراف : 5070) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1067
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ ، قَالَ : " لَيْسَ ذَلِكَ ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ ، أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے ، اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے “ ۔ تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم سبھی کو موت ناپسند ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” یہ مراد نہیں ہے ، بلکہ مراد یہ ہے کہ مومن کو جب اللہ کی رحمت ، اس کی خوشنودی اور اس کے جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنا چاہتا ہے اور اللہ اس سے ملنا چاہتا ہے ، اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی غصے کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جان نکلنے کے وقت اور موت کے فرشتوں کے آ جانے کے وقت آدمی میں اللہ سے ملنے کی جو چاہت ہوتی ہے وہ مراد ہے نہ کہ عام حالات میں کیونکہ عام حالات میں کوئی بھی مرنے کو پسند نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1067
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4264)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الرقاق 41 (تعلیقا بعد حدیث عبادة) صحیح مسلم/الذکر 5 (2684) سنن النسائی/الجنائز 10 (1839) سنن ابن ماجہ/الزہد 31 (4264) ( تحفة الأشراف : 16103) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الذکر (المصدر المذکور) مسند احمد (6/44، 55، 207) من غیر ہذا الوجہ۔»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔