مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: اس شخص کے ثواب کا بیان جس نے کوئی لڑکا ذخیرہ آخرت کے طور پر پہلے بھیج دیا ہو۔
حدیث نمبر: 1060
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عُمَرَ ، وَمُعَاذٍ ، وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَعُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ ، وَأُمِّ سُلَيْمٍ ، وَجَابِرٍ ، وَأَنَسٍ ، وَأَبِي ذَرٍّ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي ثَعْلَبَةَ الْأَشْجَعِيِّ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : وَأَبُو ثَعْلَبَةَ الْأَشْجَعِيُّ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ وَاحِدٌ هُوَ هَذَا الْحَدِيثُ ، وَلَيْسَ هُوَ الْخُشَنِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری کرنے کے لیے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمر ، معاذ ، کعب بن مالک ، عتبہ بن عبد ، ام سلیم ، جابر ، انس ، ابوذر ، ابن مسعود ، ابوثعلبہ اشجعی ، ابن عباس ، عقبہ بن عامر ، ابو سعید خدری اور قرہ بن ایاس مزنی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- ابوثعلبہ اشجعی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک ہی حدیث ہے ، اور وہ یہی حدیث ہے ، اور یہ خشنی نہیں ہیں ( ابوثعلبہ خشنی دوسرے ہیں ) ۔
وضاحت:
۱؎: «تحلۃ القسم» سے مراد اللہ تعالیٰ کا فرمان «وإن منكم إلا واردها» تم میں سے ہر شخص اس جہنم میں وارد ہو گا ، ہے اور وارد سے مراد پل صراط پر سے گزرنا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1060
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1603)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الأیمان والنذور 9 (6656) صحیح مسلم/البروالصلة 47 (2632) سنن النسائی/الجنائز 25 (1876) ( تحفة الأشراف : 13234) مسند احمد (2/473) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز6 (1251) صحیح مسلم/الجنائز (المصدر المذکور) سنن ابن ماجہ/الجنائز 57 (1603) مسند احمد (2/240، 276، 479) من غیر ہذا الوجہ۔»
حدیث نمبر: 1061
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ ، كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو ذَرٍّ : قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ ، قَالَ : " وَاثْنَيْنِ " ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ : قَدَّمْتُ وَاحِدًا ، قَالَ : " وَوَاحِدًا ، وَلَكِنْ إِنَّمَا ذَاكَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے تین بچوں کو ( لڑکے ہوں یا لڑکیاں ) بطور ذخیرہ آخرت کے آگے بھیج دیا ہو ، اور وہ سن بلوغت کو نہ پہنچے ہوں تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچانے کا ایک مضبوط قلعہ ہوں گے “ ۔ اس پر ابوذر رضی الله عنہ نے عرض کیا : میں نے دو بچے بھیجے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” دو بھی کافی ہیں “ ۔ تو ابی بن کعب سید القراء ۱؎ رضی الله عنہ نے عرض کیا : میں نے ایک ہی بھیجا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” ایک بھی کافی ہے ۔ البتہ یہ قلعہ اس وقت ہوں گے جب وہ پہلے صدمے کے وقت یعنی مرنے کے ساتھ ہی صبر کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ابوعبیدہ عبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: انہیں سیدالقراء اس لیے کہا جاتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا ہے: «أقرؤكم أبي» تم میں سب سے بڑے قاری ابی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1061
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (1606) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (351) ، المشكاة (1755) ، ضعيف الجامع الصغير (5754) // , شیخ زبیر علی زئی: (1061) إسناده ضعيف / جه 1606, أبو محمد: مجھول (تق:8345) وأبو عبيدة لم يسمع من أبيه كما قال المولف رحمه الله فالسند منقطع
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/الجنائز57 (1606) ( تحفة الأشراف : 9634) مسند احمد (1/375، 429، 451) (ضعیف) (سند میں ’’ ابو محمد مجہول ہیں، اور ’’ ابو عبیدہ ‘‘ کا اپنے باپ ابن مسعود رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے)»
حدیث نمبر: 1062
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ، قَال : سَمِعْتُ جَدِّي أَبَا أُمِّي سِمَاكَ بْنَ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيّ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِمَا الْجَنَّةَ " فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ " . قَالَتْ : فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَنْ يُصَابُوا بِمِثْلِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ بَارِقٍ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرَابِطِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ 1 فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَسِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ هُوَ : أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میری امت میں سے جس کے دو پیش رو ہوں ، اللہ اسے ان کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا “ اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے عرض کیا : آپ کی امت میں سے جس کے ایک ہی پیش رو ہو تو ؟ آپ نے فرمایا : ” جس کے ایک ہی پیش رو ہو اسے بھی ، اے توفیق یافتہ خاتون ! “ ( پھر ) انہوں نے پوچھا : آپ کی امت میں جس کا کوئی پیش رو ہی نہ ہو اس کا کیا ہو گا ؟ تو آپ نے فرمایا : ” میں اپنی امت کا پیش رو ہوں کسی کی جدائی سے انہیں ایسی تکلیف نہیں ہو گی جیسی میری جدائی سے انہیں ہو گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- ہم اسے عبدربہ بن بارق ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے کئی ائمہ نے روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1062
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، التعليق الرغيب (3 / 93) ، المشكاة (1735) // ضعيف الجامع الصغير (5801) //
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔