حدیث نمبر: 1058
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عُمَرَ ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ، لوگوں نے اس کی تعریف کی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( جنت ) واجب ہو گئی “ پھر فرمایا : ” تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمر ، کعب بن عجرہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمر ، کعب بن عجرہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: حاکم کی ایک روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے کہا: یہ فلاں کا جنازہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا اور اللہ کی اطاعت کرتا تھا اور اس میں کوشاں رہتا تھا۔
۲؎: یہ خطاب صحابہ کرام رضی الله عنہم اور ان کے طریقے پر چلنے والوں سے ہے، ابن القیم نے بیان کیا ہے کہ یہ صحابہ کے ساتھ خاص ہے۔
۲؎: یہ خطاب صحابہ کرام رضی الله عنہم اور ان کے طریقے پر چلنے والوں سے ہے، ابن القیم نے بیان کیا ہے کہ یہ صحابہ کے ساتھ خاص ہے۔
حدیث نمبر: 1059
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ : وَمَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ : أَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةٌ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . قَالَ : قُلْنَا : وَاثْنَانِ ، قَالَ : " وَاثْنَانِ " ، قَالَ : وَلَمْ نَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَاحِدِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ الدِّيلِيُّ اسْمُهُ : ظَالِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالاسود الدیلی کہتے ہیں کہ` میں مدینے آیا ، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس آ کر بیٹھا اتنے میں کچھ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی تعریف کی عمر رضی الله عنہ نے کہا : واجب ہو گئی ، میں نے عمر رضی الله عنہ سے پوچھا : کیا چیز واجب ہو گئی ؟ تو انہوں نے کہا : میں وہی بات کہہ رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” جس کسی بھی مسلمان کے ( نیک ہونے کی ) تین آدمی گواہی دیں ، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی “ ۔ ہم نے عرض کیا : اگر دو آدمی گواہی دیں ؟ آپ نے فرمایا : ” دو آدمی بھی “ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کی گواہی کے بارے میں نہیں پوچھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔