مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: میت کی تعریف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1058
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عُمَرَ ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ، لوگوں نے اس کی تعریف کی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( جنت ) واجب ہو گئی “ پھر فرمایا : ” تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمر ، کعب بن عجرہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: حاکم کی ایک روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے کہا: یہ فلاں کا جنازہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا اور اللہ کی اطاعت کرتا تھا اور اس میں کوشاں رہتا تھا۔
۲؎: یہ خطاب صحابہ کرام رضی الله عنہم اور ان کے طریقے پر چلنے والوں سے ہے، ابن القیم نے بیان کیا ہے کہ یہ صحابہ کے ساتھ خاص ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1058
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1491)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 812) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز 85 (1367) والشہادات 6 (2642) صحیح مسلم/الجنائز 20 (949) سنن النسائی/الجنائز50 (1934) سنن ابن ماجہ/الجنائز 20 (1491) مسند احمد (3/179، 186، 197، 245، 281) من غیر ہذا الوجہ۔»
حدیث نمبر: 1059
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ : وَمَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ : أَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةٌ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . قَالَ : قُلْنَا : وَاثْنَانِ ، قَالَ : " وَاثْنَانِ " ، قَالَ : وَلَمْ نَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَاحِدِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ الدِّيلِيُّ اسْمُهُ : ظَالِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالاسود الدیلی کہتے ہیں کہ` میں مدینے آیا ، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس آ کر بیٹھا اتنے میں کچھ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی تعریف کی عمر رضی الله عنہ نے کہا : واجب ہو گئی ، میں نے عمر رضی الله عنہ سے پوچھا : کیا چیز واجب ہو گئی ؟ تو انہوں نے کہا : میں وہی بات کہہ رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” جس کسی بھی مسلمان کے ( نیک ہونے کی ) تین آدمی گواہی دیں ، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی “ ۔ ہم نے عرض کیا : اگر دو آدمی گواہی دیں ؟ آپ نے فرمایا : ” دو آدمی بھی “ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کی گواہی کے بارے میں نہیں پوچھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1059
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الأحكام (45)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الجنائز 85 (1368) والشہادات 6 (2643) سنن النسائی/الجنائز 50 (1936) ( تحفة الأشراف : 10472) مسند احمد (1/22، 30، 46) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔