حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنْ أَبِي كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمَدِينَةِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ ، أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو كُدَيْنَةَ : اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ ، وَأَبُو ظَبْيَانَ اسْمُهُ : حُصَيْنُ بْنُ جُنْدُبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کی چند قبروں کے پاس سے گزرے ، تو ان کی طرف رخ کر کے آپ نے فرمایا : «السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم أنتم سلفنا ونحن بالأثر» ” سلامتی ہو تم پر اے قبر والو ! اللہ ہمیں اور تمہیں بخشے تم ہمارے پیش روہو اور ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے ،
۲- اس باب میں بریدہ رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے ،
۲- اس باب میں بریدہ رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں ۔