مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جب آدمی قبرستان میں داخل ہو تو کیا کہے؟
حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنْ أَبِي كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمَدِينَةِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ ، أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو كُدَيْنَةَ : اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ ، وَأَبُو ظَبْيَانَ اسْمُهُ : حُصَيْنُ بْنُ جُنْدُبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کی چند قبروں کے پاس سے گزرے ، تو ان کی طرف رخ کر کے آپ نے فرمایا : «السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم أنتم سلفنا ونحن بالأثر» ” سلامتی ہو تم پر اے قبر والو ! اللہ ہمیں اور تمہیں بخشے تم ہمارے پیش روہو اور ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے ،
۲- اس باب میں بریدہ رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1053
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (1765) // ضعيف الجامع الصغير (3372) ، أحكام الجنائز (197) // , شیخ زبیر علی زئی: (1053) إسناده ضعيف, قابوس: ضعيف (د 3032)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5403) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ قابوس ‘‘ ضعیف ہیں، لیکن دوسرے صحابہ کی روایت سے یہ حدیث ثابت ہے)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔