مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: قبروں پر چلنے، ان پر بیٹھنے اور ان کی طرف نماز پڑھنے کی کراہت۔
حدیث نمبر: 1050
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، وَبَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومرثد غنوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قبروں پر نہ بیٹھو ۱؎ اور نہ انہیں سامنے کر کے نماز پڑھو “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس باب میں ابوہریرہ ، عمرو بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس میں قبر پر بیٹھنے کی حرمت کی دلیل ہے، یہی جمہور کا مسلک ہے اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے انسان کی تذلیل ہوتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے توقیر و تکریم سے نوازا ہے۔
۲؎: اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے مشرکین کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے اور غیر اللہ کی تعظیم کا پہلو بھی نکلتا ہے جو شرک تک پہنچانے والا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1050
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الأحكام (209 - 210) ، تحذير الساجد (33)
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الجنائز33 (972) سنن ابی داود/ الجنائز 77 (3229) سنن النسائی/القبلة 11 (761) ( تحفة الأشراف : 11169) مسند احمد (4/135) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1051
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا : أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عن أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، وَهَذَا الصَّحِيحُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : قَالَ مُحَمَّدٌ : وَحَدِيثُ ابْنِ الْمُبَارَكِ خَطَأٌ ، أَخْطَأَ فِيهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَزَادَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، وَإِنَّمَا هُوَ بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ وَاثِلَةَ ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، وَبُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَدْ سَمِعَ مِنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی` ابومرشد غنوی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ البتہ اس سند میں ابوادریس کا واسطہ نہیں ہے اور یہی صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ابن مبارک کی روایت غلط ہے ، اس میں ابن مبارک سے غلطی ہوئی ہے انہوں نے اس میں ابوادریس خولانی کا واسطہ بڑھا دیا ہے ، صحیح یہ ہے کہ بسر بن عبداللہ نے بغیر واسطے کے براہ راست واثلہ سے روایت کی ہے ، اسی طرح کئی اور لوگوں نے عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کی ہے اور اس میں ابوادریس کے واسطے کا ذکر نہیں ہے ۔ اور بسر بن عبداللہ نے واثلہ بن اسقع سے سنا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1051
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر ما قبله (1050)
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔