مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جنازے سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 1041
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا الْمُهَزِّمِ، قَالَ : صَحِبْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَشْرَ سِنِينَ سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً وَحَمَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ مِنْ حَقِّهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَأَبُو الْمُهَزِّمِ اسْمُهُ : يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عباد بن منصور کہتے ہیں کہ` میں نے ابوالمہزم کو کہتے سنا کہ میں دس سال ابوہریرہ کے ساتھ رہا ۔ میں نے انہیں سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو کسی جنازے کے ساتھ گیا اور اسے تین بار کندھا دیا تو ، اس نے اپنا حق پورا کر دیا جو اس پر تھا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- اسے بعض نے اسی سند سے روایت کیا ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے ،
۳- ابوالمہزم کا نام یزید بن سفیان ہے ۔ شعبہ نے انہیں ضعیف کہا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1041
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (1670) // ضعيف الجامع الصغير (5513) // , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف جداً, أبوالمھزوم : متروك (د+1854)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 14833) (ضعیف) (سند میں ابو المہزم ضعیف راوی ہیں)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔