مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جنین (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی نماز نہ پڑھنے کا بیان جب تک کہ وہ ولادت کے وقت نہ روئے۔
حدیث نمبر: 1032
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الطِّفْلُ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ ، وَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ حَتَّى يَسْتَهِلَّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ قَدِ اضْطَرَبَ النَّاسُ فِيهِ ، فَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْفُوعًا ، وَرَوَى أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا ، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا ، وَكَأَنَّ هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا ، قَالُوا : لَا يُصَلَّى عَلَى الطِّفْلِ حَتَّى يَسْتَهِلَّ ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچے کی نماز ( جنازہ ) نہیں پڑھی جائے گی ۔ نہ وہ کسی کا وارث ہو گا اور نہ کوئی اس کا وارث ہو گا جب تک کہ وہ پیدائش کے وقت روئے نہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث میں لوگ اضطراب کے شکار ہوئے ہیں ۔ بعض نے اِسے ابو الزبیر سے اور ابو الزبیر نے جابر سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے ، اور اشعث بن سوار اور دیگر کئی لوگوں نے ابو الزبیر سے اور ابو الزبیر نے جابر سے موقوفاً روایت کی ہے ، اور محمد بن اسحاق نے عطاء بن ابی رباح سے اور عطاء نے جابر سے موقوفاً روایت کی ہے گویا موقوف روایت مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے ،
۲- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ بچے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی ۔ جب تک کہ وہ پیدائش کے وقت نہ روئے یہی سفیان ثوری اور شافعی کا قول ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1032
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1508) , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / جه:2750 ،1508، ك348/4۔349, أبوالزبير عنعن (تقدم:927) وللحديث شاھد ضعيف عند ابن عدي فى الكامل (1329/4)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 2660) (صحیح) وأخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 26 (1508) ، والفرائض 17 (2750) ، من غیر ہذا الوجہ۔»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔