کتب حدیث ›
سنن ترمذي › ابواب
› باب: جنین (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی نماز نہ پڑھنے کا بیان جب تک کہ وہ ولادت کے وقت نہ روئے۔
حدیث نمبر: 1032
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الطِّفْلُ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ ، وَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ حَتَّى يَسْتَهِلَّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ قَدِ اضْطَرَبَ النَّاسُ فِيهِ ، فَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْفُوعًا ، وَرَوَى أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا ، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا ، وَكَأَنَّ هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا ، قَالُوا : لَا يُصَلَّى عَلَى الطِّفْلِ حَتَّى يَسْتَهِلَّ ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچے کی نماز ( جنازہ ) نہیں پڑھی جائے گی ۔ نہ وہ کسی کا وارث ہو گا اور نہ کوئی اس کا وارث ہو گا جب تک کہ وہ پیدائش کے وقت روئے نہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث میں لوگ اضطراب کے شکار ہوئے ہیں ۔ بعض نے اِسے ابو الزبیر سے اور ابو الزبیر نے جابر سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے ، اور اشعث بن سوار اور دیگر کئی لوگوں نے ابو الزبیر سے اور ابو الزبیر نے جابر سے موقوفاً روایت کی ہے ، اور محمد بن اسحاق نے عطاء بن ابی رباح سے اور عطاء نے جابر سے موقوفاً روایت کی ہے گویا موقوف روایت مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے ،
۲- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ بچے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی ۔ جب تک کہ وہ پیدائش کے وقت نہ روئے یہی سفیان ثوری اور شافعی کا قول ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث میں لوگ اضطراب کے شکار ہوئے ہیں ۔ بعض نے اِسے ابو الزبیر سے اور ابو الزبیر نے جابر سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے ، اور اشعث بن سوار اور دیگر کئی لوگوں نے ابو الزبیر سے اور ابو الزبیر نے جابر سے موقوفاً روایت کی ہے ، اور محمد بن اسحاق نے عطاء بن ابی رباح سے اور عطاء نے جابر سے موقوفاً روایت کی ہے گویا موقوف روایت مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے ،
۲- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ بچے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی ۔ جب تک کہ وہ پیدائش کے وقت نہ روئے یہی سفیان ثوری اور شافعی کا قول ہے ۔