مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب : عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ هُوَ : أَبُو شَيْبَةَ الْوَاسِطِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَالصَّحِيحُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ : مِنَ السُّنَّةِ الْقِرَاءَةُ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازے میں سورۃ فاتحہ پڑھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کی سند قوی نہیں ہے ،
۲- ابراہیم بن عثمان ہی ابوشیبہ واسطی ہیں اور وہ منکر الحدیث ہیں ۔ صحیح چیز جو ابن عباس سے مروی ہے کہ ـ جنازے کی نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا سنت میں سے ہے ،
۳- اس باب میں ام شریک سے بھی روایت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1026
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1495) , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف جداً / جه:1495, إبراھيم بن عثمان : متروك الحديث (تق:215) وللحديث شواھد كثيرة ، والحديث الآتي (الأصل:1027) يغني عنه
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/الجنائز 22 (1495) ، انظر الحدیث الآتي ( تحفة الأشراف : 6468) (صحیح) (اگلی اثر کی متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ ابراہیم بن عثمان ‘‘ ضعیف ہیں)»
حدیث نمبر: 1027
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . فَقُلْتُ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ أَوْ مِنْ تَمَامِ السُّنَّةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، يَخْتَارُونَ أَنْ يُقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ بَعْدَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى ، وَهُوَ قَوْلُ : الشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : لَا يُقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ ، إِنَّمَا هُوَ ثَنَاءٌ عَلَى اللَّهِ ، وَالصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالدُّعَاءُ لِلْمَيِّتِ ، وَهُوَ قَوْلُ : الثَّوْرِيِّ ، وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، وَطَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ هُوَ : ابْنُ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، رَوَى عَنْهُ الزُّهْرِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طلحہ بن عوف کہتے ہیں کہ` ابن عباس رضی الله عنہما نے ایک نماز جنازہ پڑھایا تو انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی ۔ میں نے ان سے ( اس کے بارے میں ) پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ سنت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- طلحہ بن عبداللہ بن عوف ، عبدالرحمٰن بن عوف کے بھتیجے ہیں ۔ ان سے زہری نے روایت کی ہے ،
۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے یہ لوگ تکبیر اولیٰ کے بعد سورۃ فاتحہ پڑھنے کو پسند کرتے ہیں یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ،
۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی ۱؎ اس میں تو صرف اللہ کی ثنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) اور میت کے لیے دعا ہوتی ہے ۔ اہل کوفہ میں سے ثوری وغیرہ کا یہی قول ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جن روایتوں سے پہلی تکبیر کے بعد سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ثابت ہوتا ہے ان کی تاویل یہ کی جائیگی کہ یہ قرأت کی نیت سے نہیں بلکہ دعا کی نیت سے پڑھی گئی تھی لیکن یہ محض تاویل ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ مبتدعین کی حرکات بھی عجیب وغریب ہوا کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے نماز جنازہ میں ثابت سورۃ فاتحہ نماز جنازہ میں نہیں پڑھیں گے اور رسم قُل، تیجا، ساتویں وغیرہ میں فاتحہ کا رٹہ لگائیں گے اور وہ بھی معلوم نہیں کون سی فاتحہ پڑھتے ہیں حقہ کے بغیر ان کے ہاں قبول ہی نہیں ہوتی۔ «فيا عجبا لهذه الخرافات»
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1027
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح أنظر ما قبله (1026)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الجنائز 65 (1335) ، سنن ابی داود/ الجنائز 59 (3198) ، سنن النسائی/الجنائز 77 (1989) ، ( تحفة الأشراف : 5764) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔