مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: نماز جنازہ میں کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 1024
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْأَشْهَلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا ، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا ، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا " . قَالَ يَحْيَى : وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَزَادَ فِيهِ : " اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَائِشَةَ ، وَأَبِي قَتَادَةَ ، وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ وَالِدِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَى هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، وَرَوَى عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدِيثُ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ ، وَعِكْرِمَةُ رُبَّمَا يَهِمُ فِي حَدِيثِ يَحْيَى ، وَرُوِي عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ : أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ فِي هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْأَشْهَلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ اسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ فَلَمْ يَعْرِفْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوابراہیم اشہلی کے والد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے : «اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا» ” اے اللہ ! بخش دے ہمارے زندوں کو ، ہمارے مردوں کو ، ہمارے حاضر کو اور ہمارے غائب کو ، ہمارے چھوٹے کو اور ہمارے بڑے کو ، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو “ ۔ یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں : ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے ۔ البتہ اس میں اتنا زیادہ ہے : «اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان» ” اے اللہ ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھ ، اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوابراہیم کے والد کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ہشام دستوائی اور علی بن مبارک نے یہ حدیث بطریق : «يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة بن عبدالرحمٰن عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے ، اور عکرمہ بن عمار نے بطریق : «يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ۔ عکرمہ بن عمار کی حدیث غیر محفوظ ہے ۔ عکرمہ کو بسا اوقات یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث میں وہم ہو جاتا ہے ۔ نیز یہ «يحيى بن أبي كثير» سے «عن عبد الله بن أبي قتادة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کے طریق سے بھی مروی ہے ، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ اس سلسلے میں یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث جسے انہوں نے بطریق : «أبي إبراهيم الأشهلي عن أبيه» روایت کی ہے سب سے زیادہ صحیح روایت ہے ۔ میں نے ان سے ابوابراہیم کا نام پوچھا تو وہ اسے نہیں جان سکے ،
۲- اس باب میں عبدالرحمٰن ، عائشہ ، ابوقتادہ ، عوف بن مالک اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1024
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1498)
حدیث تخریج «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 314 (1084) ، ( تحفة الأشراف : 15687) (صحیح) (سند میں ابو ابراہیم اشہلی لین الحدیث راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى مَيِّتٍ ، فَفَهِمْتُ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَيْهِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَاغْسِلْهُ بِالْبَرَدِ وَاغْسِلْهُ كَمَا يُغْسَلُ الثَّوْبُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ هَذَا الْحَدِيثُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میت پر نماز جنازہ پڑھتے سنا تو میں نے اس پر آپ کی نماز سے یہ کلمات یاد کیے : «اللهم اغفر له وارحمه واغسله بالبرد واغسله كما يغسل الثوب» ” اے اللہ ! اسے بخش دے ، اس پر رحم فرما ، اسے برف سے دھو دے ، اور اسے ( گناہوں سے ) ایسے دھو دے جیسے کپڑے دھوئے جاتے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب کی سب سے صحیح یہی حدیث ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1025
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1500)
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الجنائز 26 (963) ، سنن النسائی/الطہارة 50 (62) ، والجنائز 77 (1985) ، ( تحفة الأشراف : 10901) ، مسند احمد (6/28) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابن ماجہ/الجنائز 23 (1500) ، مسند احمد (6/23) من غیر ہذا الوجہ۔»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔