مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1021
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، قَالَ : دَفَنْتُ ابْنِي سِنَانًا ، وَأَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيُّ جَالِسٌ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ ، فَلَمَّا أَرَدْتُ الْخُرُوجَ أَخَذَ بِيَدِي ، فَقَالَ : أَلَا أُبَشِّرُكَ يَا أَبَا سِنَانٍ ، قُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ ، قَالَ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ : قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ : قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ : مَاذَا قَالَ عَبْدِي ، فَيَقُولُونَ : حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ : ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسنان کہتے ہیں کہ` میں نے اپنے بیٹے سنان کو دفن کیا اور ابوطلحہ خولانی قبر کی منڈیر پر بیٹھے تھے ، جب میں نے ( قبر سے ) نکلنے کا ارادہ کیا تو وہ میرا ہاتھ پکڑ کر کہا : ابوسنان ! کیا میں تمہیں بشارت نہ دوں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ضرور دیجئیے ، تو انہوں نے کہا : مجھ سے ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزب نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بندے کا بچہ ۱؎ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتا ہے : تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کر لی ؟ تو وہ کہتے ہیں : ہاں ، پھر فرماتا ہے : تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا ؟ وہ کہتے ہیں : ہاں ۔ تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے : میرے بندے نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں : اس نے تیری حمد بیان کی اور «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: بچہ سے مراد مطلق اولاد ہے خواہ مذکر ہو یا مؤنث۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1021
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، الصحيحة (1408) , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف, قال البيھقي : ” الضحاك بن عبدالرحمان لم يثبت سماعه من أبى موسى وعيسى بن سنان ضعيف “ (284/1، 285) وقال الھيثمي فى عيسى بن سنان : ”وضعفه الجمھور“ (مجمع الزوائد: 36/1), وقال العراقي : ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء:209/2)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف وانظر: مسند احمد (4/415) ( تحفة الأشراف : 9005) (حسن) (دیکھئے: الصحیحة 1408)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔