مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جنازہ رکھے جانے سے پہلے بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1020
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ بِشْرِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اتَّبَعَ الْجَنَازَةَ لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ . فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ ، فَقَالَ : هَكَذَا نَصْنَعُ يَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " خَالِفُوهُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَبِشْرُ بْنُ رَافِعٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو جب تک جنازہ لحد ( بغلی قبر ) میں رکھ نہ دیا جاتا ، نہیں بیٹھتے ۔ ایک یہودی عالم نے آپ کے پاس آ کر کہا : محمد ! ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے لگ گئے اور فرمایا : ” تم ان کی مخالفت کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- بشر بن رافع حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1020
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (1545) , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / د+3176 ، جه:1545, بشر بن رافع ضعيف (د+3176 ، 934) وعبدالله بن سليمان ضعيف (تق:3369) وللحديث شواھد
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الجنائز 47 (3176) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز 35 (1545) ( تحفة الأشراف : 5076) (حسن) (سند میں بشر بن رافع ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، /دیکھیے الأرواء 3/193)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔