حدیث نمبر: 1017
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَرِيضَ ، وَيَشْهَدُ الْجَنَازَةَ ، وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ ، وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْعَبْدِ ، وَكَانَ يَوْمَ بَنِي قُرَيْظَةَ عَلَى حِمَارٍ مَخْطُومٍ بِحَبْلٍ مِنْ لِيفٍ عَلَيْهِ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَمُسْلِمٌ الْأَعْوَرُ يُضَعَّفُ ، وَهُوَ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْمُلَائِيُّ تُكُلِّمَ فِيهِ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ ، وَسُفْيَانُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کرتے ، جنازے میں شریک ہوتے ، گدھے کی سواری کرتے اور غلام کی دعوت قبول فرماتے تھے ۔ بنو قریظہ ۱؎ والے دن آپ ایک ایسے گدھے پر سوار تھے ، جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی کی تھی ، اس پر زین بھی چھال ہی کی تھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
ہم اس حدیث کو صرف مسلم کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ انس سے روایت کرتے ہیں ۔ اور مسلم اعور ضعیف گردانے جاتے ہیں ۔ یہی مسلم بن کیسان ملائی ہیں ، جس پر کلام کیا گیا ہے ، ان سے شعبہ اور سفیان نے روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
ہم اس حدیث کو صرف مسلم کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ انس سے روایت کرتے ہیں ۔ اور مسلم اعور ضعیف گردانے جاتے ہیں ۔ یہی مسلم بن کیسان ملائی ہیں ، جس پر کلام کیا گیا ہے ، ان سے شعبہ اور سفیان نے روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: خیبر کے یہودیوں کا ایک قبیلہ ہے یہ واقعہ ذی قعدہ ۵ ھ کا ہے۔