مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جنازہ تیزی سے لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1015
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ ، فَإِنْ يَكُنْ خَيْرًا تُقَدِّمُوهَا إِلَيْهِ ، وَإِنْ يَكُنْ شَرًّا تَضَعُوهُ عَنْ رِقَابِكُمْ " . وَفِي الْبَاب : عَنْ أَبِي بَكْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جنازہ تیزی سے لے کر چلو ۱؎ ، اگر وہ نیک ہو گا تو اسے خیر کی طرف جلدی پہنچا دو گے ، اور اگر وہ برا ہو گا تو اسے اپنی گردن سے اتار کر ( جلد ) رکھ دو گے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابوبکرہ سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: جمہور کے نزدیک امر استحباب کے لیے ہے، ابن حزم کہتے ہیں کہ وجوب کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1015
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1477)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الجنائز 51 (1315) ، صحیح مسلم/الجنائز 16 (944) ، سنن ابی داود/ الجنائز 50 (3181) ، سنن النسائی/الجنائز 44 (1911) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1477) ( تحفة الأشراف : 13124) (صحیح) وأخرجہ مالک/الجنائز 16 (56) ، موقوفا علی أبي ہریرة۔»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔