حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى إِمَامِ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَشْيِ خَلْفَ الْجَنَازَةِ ، قَالَ : " مَا دُونَ الْخَبَبِ فَإِنْ كَانَ خَيْرًا عَجَّلْتُمُوهُ ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا فَلَا يُبَعَّدُ إِلَّا أَهْلُ النَّارِ الْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَا تَتْبَعُ وَلَيْسَ مِنْهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، قَالَ : سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يُضَعِّفُ حَدِيثَ أَبِي مَاجِدٍ لِهَذَا ، وقَالَ مُحَمَّدٌ : قَالَ الْحُمَيْدِيُّ : قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : قِيلَ لِيَحْيَى : مَنْ أَبُو مَاجِدٍ هَذَا ، قَالَ : طَائِرٌ طَارَ فَحَدَّثَنَا ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا ، رَأَوْا أَنَّ الْمَشْيَ خَلْفَهَا أَفْضَلُ ، وَبِهِ يَقُولُ : سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَإِسْحَاق . قَالَ : إِنَّ أَبَا مَاجِدٍ رَجُلٌ مَجْهُولٌ لَا يُعْرَفُ ، إِنَّمَا يُرْوَى عَنْهُ حَدِيثَانِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَيَحْيَى إِمَامُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ ثِقَةٌ ، يُكْنَى أَبَا الْحَارِثِ ، وَيُقَالُ لَهُ : يَحْيَى الْجَابِرُ ، وَيُقَالُ لَهُ : يَحْيَى الْمُجْبِرُ أَيْضًا ، وَهُوَ كُوفِيٌّ ، رَوَى لَهُ شُعْبَةُ ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے پیچھے چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” ایسی چال چلے جو دلکی چال سے دھیمی ہو ۔ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے جلدی قبر میں پہنچا دو گے اور اگر برا ہے تو جہنمیوں ہی کو دور ہٹایا جاتا ہے ۔ جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے ، اس سے آگے نہیں ہونا چاہیئے ، جو جنازہ کے آگے چلے وہ اس کے ساتھ جانے والوں میں سے نہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے ،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابو حامد کی اس حدیث کو ضعیف بتاتے سنا ہے ،
۳- محمد بن اسماعیل بخاری کا بیان ہے کہ حمیدی کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا : ابوماجد کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : ایک اڑتی چڑیا ہے جس سے ہم نے روایت کی ہے ، یعنی مجہول راوی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے ،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابو حامد کی اس حدیث کو ضعیف بتاتے سنا ہے ،
۳- محمد بن اسماعیل بخاری کا بیان ہے کہ حمیدی کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا : ابوماجد کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : ایک اڑتی چڑیا ہے جس سے ہم نے روایت کی ہے ، یعنی مجہول راوی ہے ۔