مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: میت پر (آواز سے) رونے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1002
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". وَفِي الْبَاب : عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْبُكَاءَ عَلَى الْمَيِّتِ ، قَالُوا : الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ، وَذَهَبُوا إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ ، وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ : أَرْجُو إِنْ كَانَ يَنْهَاهُمْ فِي حَيَاتِهِ أَنْ لَا يَكُونَ عَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن عمر اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اہل علم کی ایک جماعت نے میت پر رونے کو مکروہ ( تحریمی ) قرار دیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میت کو اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔ اور وہ اسی حدیث کی طرف گئے ہیں ،
۴- اور ابن مبارک کہتے ہیں : مجھے امید ہے کہ اگر وہ ( میت ) اپنی زندگی میں لوگوں کو اس سے روکتا رہا ہو تو اس پر اس میں سے کچھ نہیں ہو گا ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1002
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1593)
حدیث تخریج «سنن النسائی/الجنائز 14 (1851) ( تحفة الأشراف : 10527) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز 32 (1287) ، و33 (1290، 1291) ، صحیح مسلم/الجنائز 9 (927) ، سنن النسائی/الجنائز 14 (1849) ، و15 (1854) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز 54 (1593) ، ( تحفة الأشراف : 9031) ، مسند احمد (1/26، 36، 47، 50، 51، 54) ، من غیر ہذا الوجہ۔و راجع أیضا مسند احمد (6/281)»
حدیث نمبر: 1003
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، أَنَّ مُوسَى بْنَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ بَاكِيهِ فَيَقُولُ : وَا جَبَلَاهْ وَا سَيِّدَاهْ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ إِلَّا وُكِّلَ بِهِ مَلَكَانِ يَلْهَزَانِهِ أَهَكَذَا كُنْتَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی بھی مر جائے پھر اس پر رونے والا کھڑا ہو کر کہے : ہائے میرے پہاڑ ، ہائے میرے سردار یا اس جیسے الفاظ کہے تو اسے دو فرشتوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے ، وہ اسے گھونسے مارتے ہیں ( اور کہتے جاتے ہیں ) کیا تو ایسا ہی تھا ؟ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1003
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (1594)
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/الجنائز 54 (1594) ( تحفة الأشراف : 9031) (حسن)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔