مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: میت پر نوحہ کرنے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1000
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ، وَمَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ، قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ ، فَنِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : مَا بَالُ النَّوْحِ فِي الْإِسْلَامِ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ عُذِّبَ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " . وَفِي الْبَاب : عَنْ عُمَرَ ، وَعَلِيٍّ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَقَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجُنَادَةَ بْنِ مَالِكٍ ، وَأَنَسٍ ، وَأُمِّ عَطِيَّةَ ، وَسَمُرَةَ ، وَأَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں کہ` انصار کا قرظہ بن کعب نامی ایک شخص مر گیا ، اس پر نوحہ ۱؎ کیا گیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ آئے اور منبر پر چڑھے ۔ اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا : کیا بات ہے ؟ اسلام میں نوحہ ہو رہا ہے ۔ سنو ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جس پر نوحہ کیا گیا اس پر نوحہ کیے جانے کا عذاب ہو گا “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- مغیرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمر ، علی ، ابوموسیٰ ، قیس بن عاصم ، ابوہریرہ ، جنادہ بن مالک ، انس ، ام عطیہ ، سمرہ اور ابو مالک اشعری رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: میت پر اس کی خوبیوں اور کمالات بیان کر کے چلاّ چلاّ کر رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔
۲؎: یہ عذاب اس شخص پر ہو گا جو اپنے ورثاء کو اس کی وصیت کر کے گیا ہو، یا اس کا اپنا عمل بھی زندگی میں ایسا ہی رہا ہو اور اس کی پیروی میں اس کے گھر والے بھی اس پر نوحہ کر رہے ہوں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1000
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الأحكام (28 - 29)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الجنائز 33 (1291) ، صحیح مسلم/الجنائز 9 (933) ، ( تحفة الأشراف : 11520) ، مسند احمد (4/245، 252) ، (بزیادة في السیاق) (صحیح) وانظر: مسند احمد (2/291، 414، 415، 455، 526، 531)»
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، وَالْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهُنَّ النَّاسُ : النِّيَاحَةُ ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَحْسَابِ ، وَالْعَدْوَى أَجْرَبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِائَةَ بَعِيرٍ مَنْ أَجْرَبَ الْبَعِيرَ الْأَوَّلَ ، وَالْأَنْوَاءُ مُطِرْنَا بِنَوْءٍ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں چار باتیں جاہلیت کی ہیں ، لوگ انہیں کبھی نہیں چھوڑیں گے : نوحہ کرنا ، حسب و نسب میں طعنہ زنی ، اور بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگ جانے کا عقیدہ رکھنا مثلاً یوں کہنا کہ ایک اونٹ کو کھجلی ہوئی اور اس نے سو اونٹ میں کھجلی پھیلا دی تو آخر پہلے اونٹ کو کھجلی کیسے لگی ؟ اور نچھتروں کا عقیدہ رکھنا ۔ مثلاً فلاں اور فلاں نچھتر ( ستارے ) کے سبب ہم پر بارش ہوئی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1001
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، الصحيحة (735)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 14884) (حسن)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔