مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: میت کے بوسہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 989
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ وَهُوَ يَبْكِي " أَوْ قَالَ : " عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ " . وَفِي الْبَاب : عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَجَابِرٍ ، وَعَائِشَةَ ، قَالُوا : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی الله عنہ کا بوسہ لیا - وہ انتقال کر چکے تھے - آپ رو رہے تھے ۔ یا ( راوی نے ) کہا : آپ کی دونوں آنکھیں اشک بار تھیں ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن عباس ، جابر اور عائشہ سے بھی احادیث آئی ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا ۲؎ اور آپ انتقال فرما چکے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمان میت کو بوسہ لینا اور اس پر رونا جائز ہے، رہیں وہ احادیث جن میں رونے سے منع کیا گیا ہے تو وہ ایسے رونے پر محمول کی جائیں گی جس میں بین اور نوحہ ہو۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 989
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1456) , شیخ زبیر علی زئی: (989) إسناده ضعيف / د 3163، جه 1456
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الجنائز 40 (3163) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز 7 (2456) ، ( تحفة الأشراف : 17459) ، مسند احمد (6/43، 55) (صحیح) (ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی 495)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔