مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: صبر وہ ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو۔
حدیث نمبر: 987
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصَّبْرُ فِي الصَّدْمَةِ الْأُولَى " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبر وہی ہے جو پہلے صدمے کے وقت ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ صدمے کا پہلا جھٹکا جب دل پر لگتا ہے اس وقت آدمی صبر کرے اور بے صبری کا مظاہرہ، اپنے اعمال و حرکات سے نہ کرے تو یہی صبر کامل ہے جس پر اجر مترتب ہوتا ہے، بعد میں توہر کسی کو چار و ناچار صبر آ ہی جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 987
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/الجنائز 55 (1596) ( تحفة الأشراف : 848) (صحیح)»
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى " . قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 988
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1596)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الجنائز 7 (1252) ، و31 (1283) ، و42 (1302) ، والأحکام 11 (7154) ، صحیح مسلم/الجنائز 8 (926) ، سنن ابی داود/ الجنائز 27 (3124) ، سنن النسائی/الجنائز 22 (1870) ، ( تحفة الأشراف : 439) ، مسند احمد (3/130، 143، 217) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔