مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: موت کی خبر دینے کی کراہت۔
حدیث نمبر: 984
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، وَهَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالنَّعْيَ فَإِنَّ النَّعْيَ مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَالنَّعْيُ أَذَانٌ بِالْمَيِّتِ . وَفِي الْبَاب ، عَنْ حُذَيْفَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «نعی» ( موت کی خبر دینے ) ۱؎ سے بچو ، کیونکہ «نعی» جاہلیت کا عمل ہے “ ۔ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں : «نعی» کا مطلب میت کی موت کا اعلان ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس باب میں حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: کسی کی موت کی خبر دینے کو «نعی» کہتے ہیں، «نعی» جائز ہے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر دی ہے، اسی طرح زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی الله عنہما کی وفات کی خبریں بھی آپ نے لوگوں کو دی ہیں، یہاں جس «نعی» سے بچنے کا ذکر ہے اس سے اہل جاہلیت کی «نعی» ہے، زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مر جاتا تھا تو وہ ایک شخص کو بھیجتے جو محلوں اور بازاروں میں پھر پھر کر اس کے مرنے کا اعلان کرتا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 984
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف تخريج إصلاح المساجد (108) // ضعيف الجامع الصغير (2211) // , شیخ زبیر علی زئی: (984 ،985) إسناده ضعيف, أبوحمزة مسلم بن كيسان الأعور ضعيف (تق: 6641)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 9461) (ضعیف) (سند میں میمون ابو حمزہ اعور ضعیف راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ، وَالنَّعْيُ أَذَانٌ بِالْمَيِّتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، وَأَبُو حَمْزَةَ هُوَ : مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، قَالَ 12 أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ النَّعْيَ ، وَالنَّعْيُ عِنْدَهُمْ أَنْ يُنَادَى فِي النَّاسِ أَنَّ فُلَانًا مَاتَ لِيَشْهَدُوا جَنَازَتَهُ ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : لَا بَأْسَ أَنْ يُعْلِمَ أَهْلَ قَرَابَتِهِ وَإِخْوَانَهُ ، وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ قَالَ : لَا بَأْسَ بِأَنْ يُعْلِمَ الرَّجُلُ قَرَابَتَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح مروی ہے ، اور راوی نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ۔ اور اس نے اس میں اس کا بھی ذکر نہیں کیا ہے کہ ” «نعی» موت کے اعلان کا نام ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ،
۲- یہ عنبسہ کی حدیث سے جسے انہوں نے ابوحمزہ سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے ،
۳- ابوحمزہ ہی میمون اعور ہیں ، یہ اہل حدیث کے نزدیک قوی نہیں ہیں ،
۴- بعض اہل علم نے «نعی» کو مکروہ قرار دیا ہے ، ان کے نزدیک «نعی» یہ ہے کہ لوگوں میں اعلان کیا جائے کہ فلاں مر گیا ہے تاکہ اس کے جنازے میں شرکت کریں ،
۵- بعض اہل علم کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس کے رشتے داروں اور اس کے بھائیوں کو اس کے مرنے کی خبر دی جائے ،
۶- ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کو اس کے اپنے کسی قرابت دار کے مرنے کی خبر دی جائے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 985
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: (984 ،985) إسناده ضعيف, أبوحمزة مسلم بن كيسان الأعور ضعيف (تق: 6641)
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
حدیث نمبر: 986
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ : إِذَا مِتُّ فَلَا تُؤْذِنُوا بِي إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ بن الیمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے کہا : جب میں مر جاؤں تو تم میرے مرنے کا اعلان مت کرنا ۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ بات «نعی» ہو گی ۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «نعی» سے منع فرماتے سنا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 986
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (1476) , شیخ زبیر علی زئی: (986) إسناده ضعيف /جه 1476, في سماع بلال يحيى من حذيفة رضى الله عنه نظر ، والله أعلم
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/الجنائز 14 (1497) ( تحفة الأشراف : 3303) (حسن)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔