مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: وصیت کرنے پر ابھارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 974
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک مسلمان ، جس کی دو راتیں بھی اس حال میں گزریں کہ اس کے پاس وصیت کرنے کی کوئی چیز ہو ، اس پر لازم ہے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 974
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2699)
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الوصایا 1 (1627) ، سنن ابن ماجہ/الوصایا 2 (2699) ، ( تحفة الأشراف : 7944) (صحیح) مسند احمد (2/57، 80) ، (ویأتي عند المؤلف فی الوصایا 3 (2118) ، وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الوصایا 1 (2738) ، صحیح مسلم/الوصایا (المصدر المذکور) ، سنن النسائی/الوصایا 1 (3645، 3646، 3648) ، موطا امام مالک/الوصایا 1 (1) ، مسند احمد (2/4، 10، 34، 50، 113) ، سنن الدارمی/الوصایا 1 (3239) ، من غیر ہذا الوجہ۔»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔