مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: موت کی تمنا کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 970
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ ، فَقَالَ : مَا أَعْلَمُ أَحَدًا لَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَقِيتُ لَقَدْ كُنْتُ وَمَا أَجِدُ دِرْهَمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي نَاحِيَةٍ مِنْ بَيْتِي أَرْبَعُونَ أَلْفًا ، وَلَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَوْ نَهَى أَنْ نَتَمَنَّى الْمَوْتَ " لَتَمَنَّيْتُ . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ خَبَّابٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ` میں خباب بن ارت رضی الله عنہ کے پاس گیا ، ان کے پیٹ میں آگ سے داغ کے نشانات تھے ، تو انہوں نے کہا : نہیں جانتا کہ صحابہ میں کسی نے اتنی مصیبت جھیلی ہو جو میں نے جھیلی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں میرے پاس ایک درہم بھی نہیں ہوتا تھا ، جب کہ اس وقت میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم پڑے ہیں ، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی تمنا کرنے سے نہ روکا ہوتا تو میں موت کی تمنا ضرور کرتا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- خباب رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں انس ، ابوہریرہ ، اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 970
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح أحكام الجنائز (59)
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/الزہد 13 (4163) ، ( تحفة الأشراف : 3511) ، مسند احمد (5/109، 110، 111) ، والمؤلف فی القیامة 40 (2483) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/المرضی 19 (5672) ، والدعوات 30 (6349) ، والرقاق 7 (6430) ، والتمنی 6 (7234) ، صحیح مسلم/الذکر 4 (2681) ، سنن النسائی/الجنائز 2 (1824) ، مسند احمد (5/109، 111، 112) من غیر ہذا الوجہ۔»
حدیث نمبر: 971
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ وَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی ہرگز کسی مصیبت کی وجہ سے جو اس پر نازل ہوئی ہو موت کی تمنا نہ کرے ۔ بلکہ وہ یوں کہے : «اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» ” اے اللہ ! مجھے زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو ، اور مجھے موت دے جب میرے لیے موت بہتر ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 971
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4265)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الدعوات 30 (6351) ، صحیح مسلم/الذکر 4 (2680) ، سنن النسائی/الجنائز 1 (1822) ، ( تحفة الأشراف : 991) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/المرضی 19 (5671) ، صحیح مسلم/الذکر (المصدرالمذکور) ، سنن ابی داود/ الجنائز 13 (3108) ، سنن النسائی/الجنائز (1821) ، سنن ابن ماجہ/الزہد 31 (4265) ، مسند احمد (1/104، 163، 171، 195، 208، 247) من غیر ہذا الطریق۔»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔