حدیث نمبر: 865
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَإِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَطُوفَ الرَّجُلُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا إِلَّا مِنْ عُذْرٍ ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا جب ۱؎ آپ حجر اسود کے پاس پہنچتے تو اس کی طرف اشارہ کرتے ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں جابر ، ابوالطفیل اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اہل علم کی ایک جماعت نے بیت اللہ کا طواف ، اور صفا و مروہ کی سعی سوار ہو کر کرنے کو مکروہ کہا ہے الا یہ کہ کوئی عذر ہو ، یہی شافعی کا بھی قول ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں جابر ، ابوالطفیل اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اہل علم کی ایک جماعت نے بیت اللہ کا طواف ، اور صفا و مروہ کی سعی سوار ہو کر کرنے کو مکروہ کہا ہے الا یہ کہ کوئی عذر ہو ، یہی شافعی کا بھی قول ہے ۔
وضاحت:
۱؎: سواری پر طواف آپ نے اس لیے کیا تھا تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ سے حج کے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ لوگ آپ کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھے۔
۲؎: یہ اشارہ آپ اپنی چھڑی سے کرتے تھے پھر اسے چوم لیتے تھے جیسا کہ ابوالطفیل رضی الله عنہ کی روایت میں ہے جو صحیح مسلم میں آئی ہے۔
۲؎: یہ اشارہ آپ اپنی چھڑی سے کرتے تھے پھر اسے چوم لیتے تھے جیسا کہ ابوالطفیل رضی الله عنہ کی روایت میں ہے جو صحیح مسلم میں آئی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 865
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2948)
تخریج «صحیح البخاری/الحج 61 (1612) ، و62 (1613) ، و74 (1632) ، والطلاق 24 (5293) ، سنن النسائی/الحج 160 (2958) ، ( تحفة الأشراف : 6050) (صحیح)»