مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: محرم شکار کا گوشت کھائے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 846
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، وَطَلْحَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ ، وَالْمُطَّلِبُ لَا نَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنْ جَابِرٍ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِأَكْلِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ بَأْسًا إِذَا لَمْ يَصْطَدْهُ أَوْ لَمْ يُصْطَدْ مِنْ أَجْلِهِ ، قَالَ الشَّافِعِيُّ : هَذَا أَحْسَنُ حَدِيثٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَاب وَأَفْسَرُ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خشکی کا شکار تمہارے لیے حالت احرام میں حلال ہے جب کہ تم نے اس کا شکار خود نہ کیا ہو ، نہ ہی وہ تمہارے لیے کیا گیا ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں ابوقتادہ اور طلحہ رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ،
۲- جابر کی حدیث مفسَّر ہے ،
۳- اور ہم مُطّلب کا جابر سے سماع نہیں جانتے ،
۴- اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ وہ محرم کے لیے شکار کے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جب اس نے خود اس کا شکار نہ کیا ہو ، نہ ہی وہ اس کے لیے کیا گیا ہو ،
۵- شافعی کہتے ہیں : یہ اس باب میں مروی سب سے اچھی اور قیاس کے سب سے زیادہ موافق حدیث ہے ، اور اسی پر عمل ہے ۔ اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 846
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (2700 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (3524) ، ضعيف أبي داود (401 / 1851) // , شیخ زبیر علی زئی: (846) إسناده ضعيف / د 1851، ن 2830
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الحج 41 (1851) ، سنن النسائی/الحج 81 (2830) ، ( تحفة الأشراف : 3098) ، مسند احمد (3/362) (ضعیف) (سند میں عمروبن ابی عمرو ضعیف ہیں، لیکن اگلی روایت سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے)»
حدیث نمبر: 847
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا ، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ ، فَأَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، یہاں تک کہ آپ جب مکے کا کچھ راستہ طے کر چکے تو وہ اپنے بعض محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے جب کہ ابوقتادہ خود غیر محرم تھے ، اسی دوران انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا ، تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے درخواست کی کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دے دیں تو ان لوگوں نے اسے انہیں دینے سے انکار کیا ۔ پھر انہوں نے ان سے اپنا نیزہ مانگا ۔ تو ان لوگوں نے اسے بھی اٹھا کر دینے سے انکار کیا تو انہوں نے اسے خود ہی ( اتر کر ) اٹھا لیا اور شکار کا پیچھا کیا اور اسے مار ڈالا ، تو بعض صحابہ کرام نے اس شکار میں سے کھایا اور بعض نے نہیں کھایا ۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملے اور اس بارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” یہ تو ایک ایسی غذا ہے جسے اللہ نے تمہیں کھلایا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خشکی کا شکار اگر کسی غیر احرام والے نے اپنے لیے کیا ہو اور محرم نے کسی طرح کا تعاون اس میں نہ کیا ہو تو اس میں اسے محرم کے لیے کھانا جائز ہے، اور اگر کسی غیر محرم نے خشکی کا شکار محرم کے لیے کیا ہو یا محرم نے اس میں کسی طرح کا تعاون کیا ہو تو محرم کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 847
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (1028) ، صحيح أبي داود (1623)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/جزاء الصید 4 (1823) ، والجہاد 88 (2914) ، والذباع 10 (5490) ، و11 (5492) ، صحیح مسلم/الحج 8 (1196) ، سنن ابی داود/ الحج 41 (1852) ، سنن النسائی/الحج 78 (2818) ، ( تحفة الأشراف : 12131) ، موطا امام مالک/الحج 24 (76) ، مسند احمد (5/301) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید 2 (1821) ، و3 (1822) ، و5 (1824) ، والہبة 3 (2570) ، والجہاد 46 (2854) ، والأطعمة 19 (5406، 5407) ، سنن ابن ماجہ/المناسک 93 (3093) ، مسند احمد (5/307) ، سنن الدارمی/المناسک 22 (1867) من غیر ہذا الطریق۔»
حدیث نمبر: 848
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي حِمَارِ الْوَحْشِ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ابوقتادہ سے نیل گائے کے بارے میں ابونضر ہی کی حدیث کی طرح مروی ہے البتہ زید بن اسلم کی اس حدیث میں اتنا زائد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 848
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر الذي قبله (847)
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : 12120) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔