حدیث نمبر: 760
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةً : أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ ، وَصَوْمَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَأَنْ أُصَلِّيَ الضُّحَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین باتوں کا عہد لیا : ۱- میں وتر پڑھے بغیر نہ سووں ، ۲- ہر ماہ تین دن کے روزے رکھوں ، ۳- اور چاشت کی نماز ( صلاۃ الضحیٰ ) پڑھا کروں ۔
حدیث نمبر: 761
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ بَسَامٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ " . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي عَقْرَبٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَقَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ ، وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، وَجَرِيرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ أَنَّ مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ كَانَ كَمَنْ صَامَ الدَّهْرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوذر ! جب تم ہر ماہ کے تین دن کے روزے رکھو تو تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو رکھو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں ابوقتادہ ، عبداللہ بن عمرو ، قرہ بن ایاس مزنی ، عبداللہ بن مسعود ، ابوعقرب ، ابن عباس ، عائشہ ، قتادہ بن ملحان ، عثمان بن ابی العاص اور جریر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- بعض احادیث میں یہ بھی ہے کہ ” جس نے ہر ماہ تین دن کے روزے رکھے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے صوم الدھر رکھا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں ابوقتادہ ، عبداللہ بن عمرو ، قرہ بن ایاس مزنی ، عبداللہ بن مسعود ، ابوعقرب ، ابن عباس ، عائشہ ، قتادہ بن ملحان ، عثمان بن ابی العاص اور جریر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- بعض احادیث میں یہ بھی ہے کہ ” جس نے ہر ماہ تین دن کے روزے رکھے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے صوم الدھر رکھا “ ۔
حدیث نمبر: 762
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160 الْيَوْمُ بِعَشْرَةِ أَيَّامٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ أَبِي شِمْرٍ، وَأَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ہر ماہ تین دن کے روزے رکھے تو یہی صیام الدھر ہے “ ، اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی ارشاد باری ہے : «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» ( الأنعام : ۱۶۰ ) ” جس نے ایک نیکی کی تو اسے ( کم سے کم ) اس کا دس گنا اجر ملے گا “ گویا ایک دن ( کم سے کم ) دس دن کے برابر ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- شعبہ نے یہ حدیث بطریق : «أبي شمر وأبي التياح عن أبي عثمان عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- شعبہ نے یہ حدیث بطریق : «أبي شمر وأبي التياح عن أبي عثمان عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ۔
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَال : سَمِعْتُ مُعَاذَةَ، قَالَتْ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قُلْتُ : مِنْ أَيِّهِ كَانَ يَصُومُ ، قَالَتْ : كَانَ لَا يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ صَامَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَالَ : وَيَزِيدُ الرِّشْكُ هُوَ يَزِيدُ الضُّبَعِيُّ وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ وَهُوَ الْقَسَّامُ ، وَالرِّشْكُ هُوَ الْقَسَّامُ بِلُغَةِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذہ کہتی ہیں کہ` میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں رکھتے تھے ، میں نے کہا : کون سی تاریخوں میں رکھتے تھے ؟ کہا : آپ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ کون سی تاریخ ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یزید الرشک یزید ضبعی ہی ہیں ، یہی یزید بن قاسم بھی ہیں اور یہی قسّام ہیں ، رشک کے معنی اہل بصرہ کی لغت میں قسّام کے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یزید الرشک یزید ضبعی ہی ہیں ، یہی یزید بن قاسم بھی ہیں اور یہی قسّام ہیں ، رشک کے معنی اہل بصرہ کی لغت میں قسّام کے ہیں ۔