کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: عاشوراء کا دن کون سا ہے؟
حدیث نمبر: 754
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ : " انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَيُّ يَوْمٍ هُوَ أَصُومُهُ ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ ثُمَّ أَصْبِحْ مِنَ التَّاسِعِ صَائِمًا " ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَهَكَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ` میں ابن عباس کے پاس پہنچا ، وہ زمزم پر اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے ، میں نے پوچھا : مجھے یوم عاشوراء کے بارے میں بتائیے کہ وہ کون سا دن ہے جس میں میں روزہ رکھوں ؟ انہوں نے کہا : جب تم محرم کا چاند دیکھو تو دن گنو ، اور نویں تاریخ کو روزہ رکھ کر صبح کرو ۔ میں نے پوچھا : کیا اسی طرح سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے ؟ کہا : ہاں ( اسی طرح رکھتے تھے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 754
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (2114)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصیام 20 (1133) ، سنن ابی داود/ الصیام 65 (2446) ، (التحفہ: 5412) ، مسند احمد (1/247) (صحیح)»
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ يَوْمُ الْعَاشِرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : يَوْمُ التَّاسِعِ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : يَوْمُ الْعَاشِرِ ، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : صُومُوا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَخَالِفُوا الْيَهُودَ ، وَبِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کو عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اہل علم کا عاشوراء کے دن کے سلسلے میں اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں : عاشوراء نواں دن ہے اور بعض کہتے ہیں : دسواں دن ۱؎ ابن عباس سے مروی ہے کہ نویں اور دسویں دن کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو ۔ شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول اسی حدیث کے مطابق ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اکثر علماء کی رائے بھی ہے کہ محرم کا دسواں دن ہی یوم عاشوراء ہے اور یہی قول راجح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 755
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (2113) , شیخ زبیر علی زئی: (755) إسناده ضعيف, الحسن البصري مدلس وعنعن (تقدم : 21)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5395) (صحیح)»