حدیث نمبر: 745
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ حَفْصَةَ ، وَأَبِي قَتَادَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کے روزے کی تلاش میں رہتے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے اور اس سند سے غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے اور اس سند سے غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی گئی ہے کہ ان دونوں دنوں میں اعمال اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں، ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تعرض الأعمال يوم الإثنين والخميس فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم» اور دوسری وجہ وہ ہے جس کا ذکر مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار (دوشنبہ) کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ” یہ وہ دن ہے جس میں میری پیدائش ہوئی اور اسی میں میں نبی بنا کر بھجا گیا، یا اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی “۔
حدیث نمبر: 746
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ السَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَالِاثْنَيْنِ وَمِنَ الشَّهْرِ الْآخَرِ الثُّلَاثَاءَ وَالْأَرْبِعَاءَ وَالْخَمِيسَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَرَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ سُفْيَانَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ ہفتہ ( سنیچر ) ، اتوار اور سوموار ( دوشنبہ ) کو اور دوسرے مہینہ منگل ، بدھ ، اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 747
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْبَاب حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اعمال سوموار ( دوشنبہ ) اور جمعرات کو اعمال ( اللہ کے حضور ) پیش کئے جاتے ہیں ، میری خواہش ہے کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن غریب ہے ۔